المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن عمارة السعدي " وكان ينزل المدينة " باب: سیدنا سعد بن عمارہ سعدی رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 5440
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَطَّابِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ: عَنْ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ أَخِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: عِظْنِي فِي نَفْسِي يَرْحَمُكَ اللهُ، قَالَ: «إِذَا أَنْتَ قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ، فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، وَاتْرُكْ طَلَبَ كَثِيرٍ مِنَ الْحَاجَاتِ، فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ، وَاجْمَعِ الْيَأْسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغِنَى، وَانْظُرْ إِلَى مَا تَعْتَذِرُ مِنْهُ مِنَ الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ، فَاجْتَنِبْهُ»ترجمہ
سیدنا سعد بن عمارہ رضی اللہ عنہ، بنو سعد بن بکر کے بھائی، سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے اپنے بارے میں نصیحت کیجیے۔ انہوں نے کہا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح وضو کرو، کیونکہ جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس کی نماز نہیں اس کا ایمان نہیں۔“ پھر کہا: ”جب تم نماز پڑھو تو رخصت ہونے والے کی طرح نماز پڑھو، اور بہت سی حاجتوں کی طلب چھوڑ دو، کیونکہ یہ تو حاضر فقر ہے، اور لوگوں کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس سے مایوسی اختیار کرو کیونکہ یہی اصل غنا ہے، اور اس بات اور عمل پر نظر رکھو جس پر تمہیں معذرت کرنی پڑے، اس سے بچو۔“