المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن ضميرة السلمي " كان ينزل المدينة " باب: سیدنا سعد بن ضمیرہ سلمی رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 5437
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ دَفَنَهُ قَوْمُهُ، فَلَفِظَتْهُ الْأَرْضُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ ضَوَاحِي جَبَلٍ، وَرَبَوْا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ، فَأَكَلَتْهُ السِّبَاعُ، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَبُرَ أَنَّ الْأَرْضَ لَفِظَتْهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّ الْأَرْضَ تَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، وَلَكِنَّ اللهَ أَرَادَ أَنْ يُرِيَكُمْ عِظَمَ الدَّمِ عِنْدَهُ»ترجمہ
…انہوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے تو درندوں نے اسے کھا لیا۔ ابن ابی زناد کہتے ہیں: مجھے پہنچا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ زمین نے اسے اگل دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یاد رکھو، زمین تو اس سے بھی بدتر شخص کو قبول کر لیتی ہے، لیکن اللہ نے چاہا کہ تمہیں ناحق خون کی سنگینی دکھا دے۔“