کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوعمرہ، انصار کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ يُصَلِّي عَلَيْهَا فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو ایک جنازے کے لیے بلایا گیا کہ آپ ﷺ اس پر نماز پڑھائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فِي مَتَاعِهِ، فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بنو اشجع کا ایک آدمی وفات پا گیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ لوگ اس کے سامان کی تلاشی لینے گئے تو اس میں یہودیوں کی منکوں میں سے کچھ منکے پائے جن کی قیمت دو درہم تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالُوا: أَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّهُ قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» قَالَ: فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ، فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ: فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ يُسَاوِينَ دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ
ابوعمرہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ خیبر کے دن ایک آدمی وفات پا گیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو زید کے بقول آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے، تو زید کے بقول آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے اس کا سامان کھولا تو اس میں یہودیوں کے منکے پائے جن کی قیمت دو درہم تھی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کی حدیث مروی ہے، جیسا کہ اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْجَعَ تُوُفِّيَ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ، قَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ» فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودٍ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے بنو اشجع کا ایک آدمی وفات پا گیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔“ اس پر لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے، جب آپ ﷺ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔“ چنانچہ ہم نے اس کا سامان تلاش کیا تو اس میں یہودیوں کے منکے پائے جن کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ تھی۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْجَعَ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبَكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ» فَفَتَّشُوا مَتَاعَهُ فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے بنو اشجع کا ایک آدمی وفات پا گیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ اس نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔“ لوگوں نے اس کا سامان تلاش کیا تو اس میں یہودیوں کے منکے پائے جن کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ تھی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ، قَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ» فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر میں مسلمانوں میں سے ایک آدمی وفات پا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔“ اس پر لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے، جب آپ ﷺ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔“ ہم نے اس کا سامان تلاش کیا تو اس میں یہودیوں کے منکے پائے جن کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ تھی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ: يَزِيدُ، مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ وَتَغَيَّرَتْ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ» فَنَظَرَ فِي مَتَاعِهِ فَوَجَدَ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ قَدْ غَلَّهُ، وَاللهُ مَا أَظُنُّهُ يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خیبر کے دن ایک آدمی وفات پا گیا، اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔“ لوگوں پر یہ بات گراں گزری اور ان کے چہرے متغیر ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔“ اس کے سامان کو دیکھا گیا تو اس میں یہودیوں کے منکے پائے گئے جو اس نے چھپائے تھے، اللہ کی قسم! میرا خیال نہیں کہ ان کی قیمت دو درہم بھی تھی۔