المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عمرة مولى الأنصار، عن زيد بن خالد باب: ابوعمرہ، انصار کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5156
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فِي مَتَاعِهِ، فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ»ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بنو اشجع کا ایک آدمی وفات پا گیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ لوگ اس کے سامان کی تلاشی لینے گئے تو اس میں یہودیوں کی منکوں میں سے کچھ منکے پائے جن کی قیمت دو درہم تھی۔