کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطیہ عوفی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» فَأَخَذْتُ أَسْتَزِيدُهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنْتَهِي حَيْثُ انْتَهَى بِي»
ترجمہ
عطیہ عوفی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“ میں نے مزید کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا: میں وہیں تک پہنچتا ہوں جہاں تک مجھے پہنچایا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْأَزْرَقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجُحْفَةِ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، وَهُوَ آخِذٌ بِعَضُدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ»
ترجمہ
عطیہ عوفی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جُحفہ کے مقام پر غدیر خم کے دن نکلے، اس حال میں کہ آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کا بازو تھام رکھا تھا، تو فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق دار ہوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: ”تو جس کا میں مولیٰ ہوں، یہ (علی) اس کے مولیٰ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ فِيهِ؟» قَالُوا: فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے خوش و خرم رہوں جبکہ صور والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے، حکم کا منتظر بیٹھا ہے کہ کب اسے پھونکنے کا حکم دیا جائے؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا: ”کہو: حسبنا اللہ ونعم الوکیل (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔“