المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خليفة بن حصين، عن زيد بن أرقم باب: خلیفہ بن حصین کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ: {لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: ٨] ، فَأَتَيْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَحَلَفَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ بِاللهِ مَا تَكَلَّمَ بِهَذَا، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ الْغُلَامُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَجَاءَ سَعْدٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي، فَقَالَ: هَذَا حَدَّثَنِي، قَالَ: فَانْتَهَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ وَبَكَيْتُ، وَقُلْتُ: إِيْ وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ النُّورَ وَالنُّبُوَّةَ لَقَدْ قَالَهُ، قَالَ: وَانْصَرَفَ عَنْهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: ١] " إِلَى آخِرِ السُّورَةِخلیفہ بن حصین، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن اُبَی کے ساتھ بیٹھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ وہاں سے گزرے، تو عبداللہ بن اُبَی نے کہا: ”اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والا ذلت والے کو اس سے ضرور نکال دے گا“ [المنافقون: 8]۔ میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور یہ بات آپ ﷺ کو بتائی۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن اُبَی کو بلوایا، تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہ کی طرف دیکھا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے تو یہ لڑکا، زید بن ارقم، بتا رہا تھا۔ چنانچہ سعد میرے پاس آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے چلے، اور کہا: اسی نے مجھے بتایا۔ عبداللہ بن اُبَی نے مجھے ڈانٹا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور رونے لگا، اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ پر نور اور نبوت نازل کی، بیشک اس نے یہ بات کہی ہے۔ نبی اللہ ﷺ اس سے واپس پلٹ گئے، تو اللہ عزوجل نے سورۃ ”إذا جاءک المنافقون“ [المنافقون: 1] پوری سورت کے آخر تک نازل فرمائی۔