المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية العوفي، عن زيد بن أرقم باب: عطیہ عوفی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5053
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ فِيهِ؟» قَالُوا: فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے خوش و خرم رہوں جبکہ صور والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے، حکم کا منتظر بیٹھا ہے کہ کب اسے پھونکنے کا حکم دیا جائے؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا: ”کہو: حسبنا اللہ ونعم الوکیل (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔“