المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية العوفي، عن زيد بن أرقم باب: عطیہ عوفی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5051
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْأَزْرَقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجُحْفَةِ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، وَهُوَ آخِذٌ بِعَضُدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ»ترجمہ
عطیہ عوفی، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جُحفہ کے مقام پر غدیر خم کے دن نکلے، اس حال میں کہ آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کا بازو تھام رکھا تھا، تو فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق دار ہوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: ”تو جس کا میں مولیٰ ہوں، یہ (علی) اس کے مولیٰ ہیں۔“