کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوسلمان مؤذن کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو سَلْمَانَ، أَنَّهُ «صَلَّى مَعَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ» ، فَقُلْتُ: أَوَهِمْتَ أُمْ عَمْدًا؟ فَقَالَ: بَلْ عَمْدًا، «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيَهَا»
ترجمہ
ابوسلمان مؤذن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازے کی نماز پڑھی تو انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا: کیا یہ بھول سے ہوا یا جان بوجھ کر؟ تو انہوں نے کہا: بلکہ جان بوجھ کر، بیشک نبی کریم ﷺ اسی طرح (نماز جنازہ) پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ، قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو سَرِيحَةَ الْغِفَارِيُّ فَصَلَّى عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا» ، وَقَالَ: «هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي»
ترجمہ
ابوسلمان مؤذن بیان کرتے ہیں: ابوسریحہ غفاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں، اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: نَشَدَ عَلِيٌّ، النَّاسَ، أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ، فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا بِذَلِكَ قَالَ زَيْدٌ: «وَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ كَتَمَ فَذَهَبَ بَصَرِي»
ترجمہ
ابوسلمان مؤذن، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا: میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا کسی نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“ تو بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئے اور اس کی گواہی دی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے (یہ گواہی دینے میں تاخیر کر کے) چھپایا، تو میری بینائی جاتی رہی۔