المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طلحة بن يزيد أبو حمزة مولى قرظة الأنصاري، عن زيد بن أرقم باب: طلحہ بن یزید ابوحمزہ، قرظہ انصاری کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4978
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «سَبْعُمِائَةِ رَجُلٍ أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ رَجُلٍ»ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ ہو۔“ میں نے پوچھا: اس دن تم کتنے تھے؟ فرمایا: ”سات سو یا آٹھ سو آدمی۔“