المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طلحة بن يزيد أبو حمزة مولى قرظة الأنصاري، عن زيد بن أرقم باب: طلحہ بن یزید ابوحمزہ، قرظہ انصاری کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4980
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ، مَوْلَى قَرَظَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالُوا لِزَيْدٍ: كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مَا بَيْنَ الثَّمَانِ مِائَةٍ إِلَى السَّبْعِمِائَةٍ»ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ ہو۔“ لوگوں نے زید سے پوچھا: اس دن تم کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: ”سات سو سے آٹھ سو کے درمیان۔“