المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الزهري، عن خارجة بن زيد، عن زيد باب: زہری کی خارجہ بن زید کے واسطے سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةَ أُصِيبَ مِمَّنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ نَاسٌ كَثِيرٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ أَرْبَعِمِائَةٍ، فَجِئْتُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كَانتْ وَقْعَةٌ أُخْرَى يَذْهَبُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَا نُغَيِّرُ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قُلْتُ: فَمَا عَلَيْكُمْ؟ فَقَالَا: مَا عَلَيْنَا صَدَقْتَ، فَكَتَبَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَرِيدِ وَالْأَكْتَافِ "خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب یمامہ کا دن ہوا تو قرآن پڑھنے والوں میں سے بہت سے لوگ شہید ہو گئے، تقریباً چار سو کا ذکر کیا۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اگر کوئی اور جنگ ہو گئی تو قرآن سینوں سے جاتا رہے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں وہ کام نہیں کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔“ پھر انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بلایا، انہوں نے بھی یہی کہا: ہم وہ کام نہیں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟ ان دونوں نے کہا: ہمارے لیے کوئی نقصان نہیں، تم نے سچ کہا۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کھجور کے پتوں اور اونٹوں کے شانے کی ہڈیوں پر لکھوا لیا۔