کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا رباح بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ، حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کے بھائی
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَا الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ، قَالَ: ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَظُنُّهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَدَّهُ رَبَاحَ بْنَ رَبِيعٍ، أَخَا حَنْظَلَةَ الْكَاتِبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، كَانَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ فِيهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَمَرَّ رَبَاحُ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ مِمَّا أَصَابَتِ الْمُقَدِّمَةُ، فَوَقَفُوا عَلَيْهَا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، وَيَعْجَبُونَ مِنْ خَلْقِهَا حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، فَتَفَرَّجُوا عَنِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ» ، ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ: «الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلَا يَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا»
ترجمہ
… اور اس کی ساخت پر تعجب کر رہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر ان کے پاس پہنچے، تو وہ عورت کے پاس سے ہٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا اور ان میں سے ایک شخص سے فرمایا: ”خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ ہرگز کسی بچے یا مزدور کو قتل نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ، أَنَّ جَدَّهُ رَبَاحَ بْنَ رَبِيعٍ، أَخَا حَنْظَلَةَ الْكَاتِبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ،
ترجمہ
سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ، جو حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے، بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ایک غزوے میں) نکلے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَهُ عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ سے بھی اپنے دادا کی سند سے، رسول اللہ ﷺ سے، اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَعَلَى مُقَدِّمَةِ النَّاسِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ عَلَى الطَّرِيقِ، يَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا قَدْ أَصَابَتْهَا الْمُقَدِّمَةُ، فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ: «أَدْرِكْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَقُلْ لَا يَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا»
ترجمہ
… تو دیکھا کہ راستے میں ایک عورت مقتول پڑی ہے، لوگ اس کی جسامت پر تعجب کر رہے تھے، اسے مقدمہ (لشکر کے آگے والے دستے) نے قتل کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اس کے پاس کھڑے ہوئے، پھر ایک آدمی سے فرمایا: ”خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ ہرگز کسی بچے یا مزدور کو قتل نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ، فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ» فَقَالَ: «مَنْ عَلَى الْمُقَدِّمَةِ؟» قَالُوا: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا فَقَالَ: «مُرْ خَالِدًا لَا يَقْتُلْ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا»
ترجمہ
سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو دیکھا کہ لوگ ایک قتل کی گئی عورت کے گرد جمع ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ پھر فرمایا: ”لشکر کے آگے کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: خالد بن ولید۔ تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو ان کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”خالد کو حکم دو کہ وہ کسی بچے اور مزدور کو قتل نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي الْمُرَقَّعُ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ الْحَنْظَلِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، وَكَانَ الْمُقَدِّمَةُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَرَّ رَبَاحُ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ قُتَيْلَةٍ، قَتَلَتْهَا الْمُقَدِّمَةُ، فَاجْتَمَعُوا عَلَيْهَا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا وَإِلَى خَلْقِهَا، وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا، حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وتَفَرَّجُوا، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ» فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: «أَدْرِكْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَا تَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا»
ترجمہ
… لوگ اس کے پاس جمع ہو کر اسے اور اس کی جسامت کو دیکھ رہے اور تعجب کر رہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو وہ ہٹ گئے۔ آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ پھر لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا، پھر ان میں سے ایک سے فرمایا: ”خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ ہرگز کسی بچے یا مزدور کو قتل نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنٌ وَكِيعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُرَقَّعٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زُهَيْرِ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعِ بْنِ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا بَعِيرًا يَرْكَبُهُ اثْنَانِ وَيَسُوقُ وَاحِدٌ فِي الصَّحَارِي، ونَقُودُ فِي الْجِبَالِ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمْشِي فَقَالَ لِي: «أَرَاكَ يَا رَبَاحُ مَاشِيًا» فَقُلْتُ: إِنَّمَا نَزَلْتُ السَّاعَةَ، وَهَذَانِ صَاحِبَايَ قَدْ رَكِبَا، فَمَضَى فَمَرَّ بِصَاحِبَيَّ فَأَنَاخَا بَعِيرَهُمَا ونَزَلَا عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ قَالَا: ارْكَبْ صَدْرَ هَذَا الْبَعِيرِ فَلَا تَزَالُ عَلَيْهِ حَتَّى نَرْجِعَ ونَعْتَقِبُ أَنَا وَصَاحِبِي، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكُمَا رَفِيقًا صَالِحًا فَأحْسِنَا صُحْبَتَهُ»
ترجمہ
… اور آپ ﷺ نے ہم میں سے ہر تین آدمیوں کو ایک اونٹ دیا تھا، جس پر دو سوار ہوتے اور ایک ہانکتا، میدانوں میں سوار ہوتے اور پہاڑوں میں پیدل چلاتے۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں پیدل چل رہا تھا، تو فرمایا: ”رباح! میں تمہیں پیدل چلتا دیکھ رہا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: ابھی ابھی اترا ہوں، اور یہ میرے دونوں ساتھی سوار ہیں۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے اپنا اونٹ بٹھا کر اس سے اتر گئے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اس اونٹ کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ اور اسی پر رہو یہاں تک کہ ہم واپس آئیں اور میں اور میرا ساتھی باری باری سواری کریں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تم دونوں کا ایک نیک ساتھی ہے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔“