المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رباح بن الربيع الأسيدي " أخو حنظلة الكاتب " باب: سیدنا رباح بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ، حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کے بھائی
حدیث نمبر: 4606
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ، فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ» فَقَالَ: «مَنْ عَلَى الْمُقَدِّمَةِ؟» قَالُوا: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا فَقَالَ: «مُرْ خَالِدًا لَا يَقْتُلْ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا»ترجمہ
سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو دیکھا کہ لوگ ایک قتل کی گئی عورت کے گرد جمع ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ پھر فرمایا: ”لشکر کے آگے کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: خالد بن ولید۔ تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو ان کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”خالد کو حکم دو کہ وہ کسی بچے اور مزدور کو قتل نہ کرے۔“