حدیث نمبر: 4606
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ، فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ» فَقَالَ: «مَنْ عَلَى الْمُقَدِّمَةِ؟» قَالُوا: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا فَقَالَ: «مُرْ خَالِدًا لَا يَقْتُلْ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا»
ترجمہ

سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو دیکھا کہ لوگ ایک قتل کی گئی عورت کے گرد جمع ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ پھر فرمایا: ”لشکر کے آگے کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: خالد بن ولید۔ تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو ان کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”خالد کو حکم دو کہ وہ کسی بچے اور مزدور کو قتل نہ کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4606
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 73، حدیث 4621