المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رباح بن الربيع الأسيدي " أخو حنظلة الكاتب " باب: سیدنا رباح بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ، حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کے بھائی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنٌ وَكِيعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُرَقَّعٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زُهَيْرِ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعِ بْنِ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا بَعِيرًا يَرْكَبُهُ اثْنَانِ وَيَسُوقُ وَاحِدٌ فِي الصَّحَارِي، ونَقُودُ فِي الْجِبَالِ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمْشِي فَقَالَ لِي: «أَرَاكَ يَا رَبَاحُ مَاشِيًا» فَقُلْتُ: إِنَّمَا نَزَلْتُ السَّاعَةَ، وَهَذَانِ صَاحِبَايَ قَدْ رَكِبَا، فَمَضَى فَمَرَّ بِصَاحِبَيَّ فَأَنَاخَا بَعِيرَهُمَا ونَزَلَا عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ قَالَا: ارْكَبْ صَدْرَ هَذَا الْبَعِيرِ فَلَا تَزَالُ عَلَيْهِ حَتَّى نَرْجِعَ ونَعْتَقِبُ أَنَا وَصَاحِبِي، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكُمَا رَفِيقًا صَالِحًا فَأحْسِنَا صُحْبَتَهُ»… اور آپ ﷺ نے ہم میں سے ہر تین آدمیوں کو ایک اونٹ دیا تھا، جس پر دو سوار ہوتے اور ایک ہانکتا، میدانوں میں سوار ہوتے اور پہاڑوں میں پیدل چلاتے۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں پیدل چل رہا تھا، تو فرمایا: ”رباح! میں تمہیں پیدل چلتا دیکھ رہا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: ابھی ابھی اترا ہوں، اور یہ میرے دونوں ساتھی سوار ہیں۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے اپنا اونٹ بٹھا کر اس سے اتر گئے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اس اونٹ کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ اور اسی پر رہو یہاں تک کہ ہم واپس آئیں اور میں اور میرا ساتھی باری باری سواری کریں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تم دونوں کا ایک نیک ساتھی ہے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔“