حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا، سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عِبَادٍ الدِّيلِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا " فَلَمْ يَزَلْ يُرَدِّدُهَا مِرَارًا وَالنَّاسُ مُتَصَفُّونَ عَلَيْهِ يَتَّبِعُونَهُ، وَإِذَا وَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ وَضِيءُ الْوَجْهِ يَقُولُ: إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ، مَرَّتَيْنِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے زمانہ جاہلیت میں ذوالمجاز کے بازار میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! کہو: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، فلاح پاؤ گے۔“ آپ ﷺ یہ بات بار بار دہراتے رہے، اور لوگ آپ ﷺ پر بھیڑ لگائے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے، اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگی آنکھوں والا، دو چٹیوں والا، خوبصورت چہرے والا شخص یہ کہہ رہا تھا: یہ جھوٹا اور بےدین ہے - دو بار۔ تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ اس کا چچا ابولہب ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَ بْنِ عِبَادٍ، أَوْ عَبَّادٍ - شَكَّ ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكُمْ أنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أنْ تَتْرُكُوا دَيْنَ آبَائِكُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ فَقَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے منیٰ میں لوگوں کے ڈیروں پر گھومتے دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! بےشک اللہ عزوجل تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔“ اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک شخص کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے باپ دادا کا دین چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے، تو میں نے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا: اس کا چچا ابولہب۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ الدِّيلِيِّ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَتْبَعُ النَّاسَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ فِي مَنَازِلِهِمْ» ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ يَقُولُ: لَا يَفْتِنُكُمْ هَذَا عَنْ دَيْنِ آبَائِكُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ذوالمجاز میں دیکھا، آپ ﷺ لوگوں کے پیچھے پیچھے جا کر انہیں ان کے ڈیروں میں اللہ کی طرف بلا رہے تھے، اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگی آنکھوں والا شخص کہہ رہا تھا: یہ تمہیں تمہارے باپ دادا کے دین سے نہ پھیر دے، تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: اس کا چچا ابولہب۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْمَجَازِ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ وَدِينِ آبَائِكُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ذوالمجاز میں دیکھا، آپ ﷺ لوگوں کے پیچھے پیچھے جا کر انہیں ان کے ڈیروں میں اللہ عزوجل کی طرف بلا رہے تھے، اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگی آنکھوں والا شخص کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے دین اور تمہارے باپ دادا کے دین سے دھوکہ نہ دے، تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: اس کا چچا ابولہب۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْقُرَشِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدِّيلِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ أَمَرَكُمْ أنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءٌ لَهُ غَدِيرَتانِ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أنْ تَتْرُكُوا دَيْنَ آبَائِكُمْ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
…اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے منیٰ میں لوگوں کے ڈیروں پر گھومتے دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! بےشک اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔“ اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگی آنکھوں والا، خوبصورت، دو چٹیوں والا شخص کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے باپ دادا کا دین چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے، تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا: یہ اس کا چچا ابولہب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ وَهُوَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أنْ تَتْرُكُوا دَيْنَ آبَائِكُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہجرت سے پہلے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ ﷺ لوگوں کے درمیان گھومتے ہوئے فرما رہے تھے: ”اے لوگو! بےشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔“ اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک شخص کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ تمہیں تمہارے باپ دادا کا دین چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: اس کا چچا ابولہب۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرٍ الْحِزَامِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلَا يُغْوِيَنَّكُمْ عَنْ مَآثِرِ آبَائِكُمْ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوذُ مِنْهُ، وَهُوَ يَتْبَعُهُ "
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابولہب کو عکاظ میں دیکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ گمراہ ہو چکا ہے، پس یہ تمہیں تمہارے باپ دادا کی روایات سے گمراہ نہ کر دے، اور رسول اللہ ﷺ اس سے بچتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے جبکہ وہ آپ ﷺ کے پیچھے لگا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدِّيلِيَّ قَالَ: إِنِّي لَمَعَ أَبِي رَجُلٌ شَابٌّ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ يَقِفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبِيلَةِ فَيَقُولُ: «يَا بَنِي فُلَانٍ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ آمُرُكُمْ أنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُونِي وتَمْنَعُونِي حَتَّى أُنَفِّذَ عَنِ اللهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ» ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِهِ، قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفَهِ: يَا بَنِي فُلَانٍ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ مِنْكُمْ أنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ، فَلَا تَسْمَعُوا وَلَا تَتَّبِعُوهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ
…میں اپنے والد کے ساتھ ایک نوجوان تھا، میں رسول اللہ ﷺ کو قبیلوں کے پاس جاتے دیکھ رہا تھا، اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگی آنکھوں والا، خوبصورت، لمبے بالوں والا شخص تھا، رسول اللہ ﷺ کسی قبیلے کے پاس رک کر فرماتے: ”اے فلاں کی اولاد! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور یہ کہ تم مجھے سچا مانو اور میری حفاظت کرو یہاں تک کہ میں اللہ کی طرف سے وہ پیغام پہنچا دوں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔“ جب آپ ﷺ اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ دوسرا شخص پیچھے سے کہتا: اے فلاں کی اولاد! یہ تم سے چاہتا ہے کہ تم لات اور عزیٰ کو اور بنی مالک بن اقیش کے قبیلے میں اپنے حلیفوں کو چھوڑ کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف چلے جاؤ جو یہ لے کر آیا ہے، پس اس کی بات مت سنو اور اس کی پیروی مت کرو۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اس کا چچا ابولہب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرٍ الْحِزَامِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، حَدَّثَهُ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلَا يُغْوِيَنَّكُمْ عَنْ مَآثِرِ آبَائِكُمْ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى وَهُوَ عَلَى أَثَرِهِ وَنَحْنُ نَتْبَعُهُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ أَبْيَضُ النَّاسِ وَأَجْمَلُهُ "
ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابولہب کو عکاظ میں دیکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ گمراہ ہو چکا ہے، پس یہ تمہیں تمہارے باپ دادا کی روایات سے گمراہ نہ کر دے، اور رسول اللہ ﷺ آگے تیزی سے چل رہے تھے جبکہ وہ آپ ﷺ کے پیچھے لگا ہوا تھا اور ہم اس کے پیچھے چل رہے تھے، گویا میں اسے اب بھی دیکھ رہا ہوں: بھینگی آنکھوں والا، دو چٹیوں والا، لوگوں میں سب سے زیادہ گورا اور خوبصورت۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ الْخَطَّابِ، ثنا مَسْعُودِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ عِبَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا فِي مَكَانٍ قَبْلَ أنْ يُبْعَثَ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ بَعْدَمَا بُعِثَ وَاقِفًا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ بِعَرَفَاتٍ»
ترجمہ
…اپنے والد سے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو بعثت سے پہلے ایک جگہ کھڑے دیکھا، پھر بعثت کے بعد بھی میں نے آپ ﷺ کو اسی جگہ عرفات میں کھڑے دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِعَرَفَاتٍ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا بُعِثَ وَاقِفًا فِي مَوْقِفِهِ ذَلِكَ فَعَلِمْتُ أَنَّ اللهَ وَفَقَّهُ لِذَلِكَ»
ترجمہ
…اپنے والد سے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو بعثت سے پہلے مشرکین کے ساتھ عرفات میں کھڑے دیکھا، پھر بعثت کے بعد بھی میں نے آپ ﷺ کو اسی جگہ کھڑے دیکھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اسی مقام کی توفیق دی تھی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْشُدُكَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَنْشَدَهُ الرَّابِعَةَ مِدْحَةً لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنَ الشُّعَرَاءِ يُحْسِنُ فَقَدْ أَحْسَنْتَ»
ترجمہ
…اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کو شعر سناؤں؟ اس نے یہ بات تین بار کہی، پھر چوتھی بار اس نے آپ ﷺ کی تعریف میں شعر سنائے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر شاعروں میں سے کوئی اچھا شعر کہہ سکتا ہے تو تم نے اچھا کہا۔“