حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدِّيلِيَّ قَالَ: إِنِّي لَمَعَ أَبِي رَجُلٌ شَابٌّ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ يَقِفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبِيلَةِ فَيَقُولُ: «يَا بَنِي فُلَانٍ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ آمُرُكُمْ أنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُونِي وتَمْنَعُونِي حَتَّى أُنَفِّذَ عَنِ اللهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ» ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِهِ، قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفَهِ: يَا بَنِي فُلَانٍ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ مِنْكُمْ أنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ، فَلَا تَسْمَعُوا وَلَا تَتَّبِعُوهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ

…میں اپنے والد کے ساتھ ایک نوجوان تھا، میں رسول اللہ ﷺ کو قبیلوں کے پاس جاتے دیکھ رہا تھا، اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک بھینگی آنکھوں والا، خوبصورت، لمبے بالوں والا شخص تھا، رسول اللہ ﷺ کسی قبیلے کے پاس رک کر فرماتے: ”اے فلاں کی اولاد! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور یہ کہ تم مجھے سچا مانو اور میری حفاظت کرو یہاں تک کہ میں اللہ کی طرف سے وہ پیغام پہنچا دوں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔“ جب آپ ﷺ اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ دوسرا شخص پیچھے سے کہتا: اے فلاں کی اولاد! یہ تم سے چاہتا ہے کہ تم لات اور عزیٰ کو اور بنی مالک بن اقیش کے قبیلے میں اپنے حلیفوں کو چھوڑ کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف چلے جاؤ جو یہ لے کر آیا ہے، پس اس کی بات مت سنو اور اس کی پیروی مت کرو۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اس کا چچا ابولہب ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4574
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 63، حدیث 4589