کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا حصین بن عتبہ خزاعی رضی اللہ عنہ، عمران بن حصین کے والد، ان کے اسلام لانے میں اختلاف ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہوئے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کفر پر فوت ہوئے، لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوئے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ح وَثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ الْحُصَيْنَ أَبَا عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ الْخُزَاعِيَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْرِكٌ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ «عَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ» فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَيْبَانَ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ حُصین ابوعمران بن حصین خزاعی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جبکہ وہ اس وقت مشرک تھے، انہوں نے کہا: اے محمد! ”عبدالمطلب اپنی قوم کے لیے آپ سے بہتر تھا۔“
راوی نے پھر شیبان کی حدیث جیسی ہی بات ذکر کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3538
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 27، حدیث 3551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ مَاتَ قَبْلَكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ» ، فَمَا مَضَتْ عِشْرُونَ لَيْلَةً حَتَّى مَاتَ مُشْرِكًا .
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد حصین نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو صلہ رحمی کرتا اور مہمان نوازی کرتا تھا اور آپ سے پہلے فوت ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا باپ اور تمہارا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔“ ابھی بیس راتیں بھی نہیں گزریں کہ وہ مشرک ہی حالت میں فوت ہو گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3539
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 27، حدیث 3552
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُشْرِكًا فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَقْرِي الضَّيْفَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، اور وہ اس وقت مشرک تھے، انہوں نے کہا: آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو مہمان نوازی کرتا ہے؟
راوی نے آگے اسی جیسی بات ذکر کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3540
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 27، حدیث 3553