حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُسَافَرَ إِلَّا مَعْرُوضًا أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، قَالَ: فَصَمَتَ، ثُمَّ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ»
ترجمہ
سیدنا حصین بن عوف خثعمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور ان پر حجۃ الاسلام فرض ہے، اور وہ صرف کجاوے پر لدے ہوئے سفر کر سکتے ہیں، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلَّا مُعْتَرِضًا قَالَ: فَصَمَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ»
ترجمہ
سیدنا حصین بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد پر حج فرض ہو چکا ہے اور وہ بغیر سہارے کے حج نہیں کر سکتے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ، ح وَثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّبَذِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ ضَعِيفٌ وَقَدْ عَمِلَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا غَيْرَ الْحَجِّ وَلَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى بَعِيرٍ أَفَأَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، فَقَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»
ترجمہ
سیدنا حصین بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد بہت بوڑھے اور کمزور ہیں، انہوں نے اسلام کے تمام احکام پر عمل کیا ہے سوائے حج کے، اور وہ اونٹ پر سنبھل کر نہیں بیٹھ سکتے، تو کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہارے والد پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔“