حدیث نمبر: 3541
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: «اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ» ، قَالَ: فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: «أَقْبِلْ فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ» فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فِي الشِّتَاءِ فِي بَرْدٍ وغَيْمٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ: «لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ وعَجِّلُوهُ» فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ، وجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ طَلْحَةُ: ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ الْيَهُودَ أَنْ يُصَابَ فِي سَبَبِي، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ، فَصَفَّ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «اللهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: …اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جو چاہیں حکم دیں، میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ نبی کریم ﷺ کو اس بات پر تعجب ہوا کیونکہ وہ ابھی لڑکا تھا، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ ایسا کرنے کے لیے پیٹھ پھیر کر چل پڑا، تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”واپس آؤ، مجھے قطع رحمی کے لیے نہیں بھیجا گیا۔“ پھر اس کے بعد طلحہ بیمار ہو گئے، تو نبی کریم ﷺ سردیوں میں، سردی اور ابر کے موسم میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو اپنے گھر والوں سے فرمایا: ”میں طلحہ کو موت کے قریب ہی دیکھ رہا ہوں، پس مجھے اطلاع دینا تاکہ میں ان کے پاس حاضر ہوں اور ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں، اور دفن میں جلدی کرنا۔“ ابھی نبی کریم ﷺ کا پیغام بنی سالم بن عوف تک نہیں پہنچا تھا کہ طلحہ فوت ہو گئے اور رات ان پر چھا گئی۔ طلحہ نے جو کہا تھا اس میں یہ بھی تھا: مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے رب عزوجل سے ملا دینا، اور رسول اللہ ﷺ کو نہ بلانا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہود میری وجہ سے آپ کو نقصان نہ پہنچا دیں۔ صبح ہونے پر نبی کریم ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ تشریف لائے اور ان کی قبر پر کھڑے ہوئے، لوگ آپ ﷺ کے ساتھ صف بستہ ہوئے، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! طلحہ سے ملاقات فرما اس حال میں کہ وہ تیرے سامنے مسکرا رہا ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3541
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 28، حدیث 3554