المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حصين بن عتبة أبو عمران بن الحصين الخزاعي وقد اختلف في إسلامه قيل أسلم ويقال مات على كفره، والصحيح أنه أسلم باب: سیدنا حصین بن عتبہ خزاعی رضی اللہ عنہ، عمران بن حصین کے والد، ان کے اسلام لانے میں اختلاف ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہوئے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کفر پر فوت ہوئے، لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوئے
حدیث نمبر: 3539
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ مَاتَ قَبْلَكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ» ، فَمَا مَضَتْ عِشْرُونَ لَيْلَةً حَتَّى مَاتَ مُشْرِكًا .ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد حصین نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو صلہ رحمی کرتا اور مہمان نوازی کرتا تھا اور آپ سے پہلے فوت ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا باپ اور تمہارا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔“ ابھی بیس راتیں بھی نہیں گزریں کہ وہ مشرک ہی حالت میں فوت ہو گئے۔