کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: معبد بن خالد جدلی کی سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُتَكَبِّرٍ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور شخص جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، اگر وہ اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے سچا کر دکھائے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، موٹا اور متکبر شخص۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ، ثنا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَارُودِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «رَجُلٌ ضَعِيفٌ مُتَضَعِّفٌ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُتَكَبِّرٍ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کمزور شخص جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، اگر وہ اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے سچا کر دکھائے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر سخت مزاج، موٹا اور متکبر شخص۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعيُّ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ، وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ مُسْتَكْبِرٍ جَوَّاظٍ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور شخص جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، اگر وہ اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے سچا کر دکھائے، اور جہنمی ہر وہ سخت مزاج، متکبر اور موٹا شخص ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي بِخَطِّهِ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ، ثنا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ، قَالَا: قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب اور سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنتیوں کی خبر نہ دوں؟ ہر وہ کمزور شخص جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، اگر وہ اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے سچا کر دکھائے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کی خبر نہ دوں؟ ہر سخت مزاج، موٹا اور متکبر شخص۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا "
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”صدقہ دو، عنقریب تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر پھرے گا، تو جسے وہ دینا چاہے گا وہ کہے گا: اگر تو کل یہ لے کر آتا تو میں قبول کر لیتا، لیکن آج مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ لَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ دو، عنقریب تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر پھرے گا مگر اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں ملے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي بِخَطِّهِ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُسْتَوْرِدِ، قَالَا: قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا، فَإِنَّهُ سَيَأْتِي يَوْمٌ لَا يُقْبَلُ فِيهِ الصَّدَقَةُ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب اور سیدنا مستورد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ دو، عنقریب ایک ایسا دن آئے گا جس میں صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَزُوعِيُّ، قَالَا: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " حَوْضِي مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَصَنْعَاءَ - فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قَالَ: الْأَوَانِي، فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ - فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلُ الْكَوَاكِبِ ". وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ زَكَرِيَّا السَّاجِيِّ
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرا حوض مدینہ اور صنعاء کے درمیان وسیع ہے“ — اس پر سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے اس سے آگے نہیں سنا؟ انہوں نے کہا: برتنوں کے بارے میں نہیں سنا۔ تو مستورد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں برتن ستاروں کی طرح ہوں گے۔ (یہ الفاظ زکریا الساجی کی روایت کے ہیں۔)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى مِسْكَةٍ مِنْ دِينِهَا مَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا»
ترجمہ
سیدنا حارث بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت اپنے دین کی ایک ڈور تھامے رہے گی جب تک وہ جنازوں کی ذمہ داری ان کے گھر والوں پر نہ چھوڑ دیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي عَلَى الْإِسْلَامِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى يَشْتَبِكَ النُّجُومُ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ، وَمَا لَمْ يُعَجِّلُوا الْفَجْرَ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا»
ترجمہ
سیدنا حارث بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت اسلام پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز اتنی دیر نہ کریں کہ ستارے آپس میں ملنے لگیں، یہودیوں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے، اور جب تک وہ فجر کی نماز جلدی نہ کریں، عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے، اور جب تک وہ جنازوں کی ذمہ داری ان کے گھر والوں پر نہ چھوڑ دیں۔“