حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْسٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ حَتَّى رَكِبَا عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ وَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَقْبَلَ الْحُسَيْنُ، فَحَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَجَدَّةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمَّا وَعَمَّةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَخَالَةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أَبًا وَأَمَّا؟ هُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، جَدُّهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوهُمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ بْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ، وَرُقَيَّةُ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ»
ترجمہ
… جب آپ نے سلام پھیرا تو انہیں (حسن اور حسین کو) اپنے سامنے بٹھایا، اور سیدنا حسین آگے بڑھے، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن کو اپنے دائیں کندھے پر اور سیدنا حسین کو اپنے بائیں کندھے پر اٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ نانا اور نانی کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ چچا اور پھوپھی کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ باپ اور ماں کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں: ان کے نانا رسول اللہ ﷺ ہیں، اور ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں، اور ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ہیں، اور ان کے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، اور ان کے چچا جعفر بن ابی طالب ہیں، اور ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب ہیں، اور ان کے ماموں قاسم بن رسول اللہ ﷺ ہیں، اور ان کی خالائیں زینب، رقیہ اور ام کلثوم، رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے نانا جنت میں ہیں، ان کے والد جنت میں ہیں، ان کے چچا جنت میں ہیں، ان کی پھوپھی جنت میں ہیں، ان کی خالائیں جنت میں ہیں، اور یہ دونوں جنت میں ہیں، اور جو ان سے محبت رکھے وہ بھی جنت میں ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحانٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا؟ السَّبَبُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فاسْتَمْسِكُوا بِهِ، وَلَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِيَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں، اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، ایک ایسا حوض جو صنعاء اور بصریٰ کے درمیانی فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں، اور جب تم مجھ سے آ ملو گے تو میں تم سے ثقلین کے بارے میں پوچھوں گا، تو دیکھو میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟ بڑی رسی اللہ عزوجل کی کتاب ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، تو اسے تھامے رکھو، اور نہ گمراہ ہو اور نہ اسے بدلو، اور میری عترت، میرے اہل بیت، کیونکہ باریک بین اور باخبر (اللہ) نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الضُّبَعِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «رُفِعَ الْكِتَابُ، وَجَفَّ الْقَلَمُ، وَأُمُورٌ يُقْضَى فِي كِتَابٍ قَدْ خَلَا»
ترجمہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نامۂ اعمال اٹھا لیا گیا، قلم خشک ہو گیا، اور معاملات ایک ایسی تحریر میں طے ہو چکے جو گزر چکی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَعْزِلُ عَنْهَا، وَكَانَتْ سَرِيَّتَهُ "
ترجمہ
راوی کی دادی سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ ان سے عزل کیا کرتے تھے، اور وہ ان کی باندی (سریہ) تھیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَحْشٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجُبْنِ، فَقَالَ: «ضَعِ السِّكِّينَ، وَسَمِّ وَكُلْ»
ترجمہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پنیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”چھری رکھو، بسم اللہ پڑھو اور کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعَيْمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي شُعْبَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا طَافَا بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ»
ترجمہ
ابوشعبہ کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد طواف کرتے اور دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الطَّرِيقِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّيَّاتُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحَبَطِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ ابْنَهُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمُرُوءَةِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، مَا السَّدَادُ؟ قَالَ: يَا أَبَهْ، السَّدَادُ دَفْعُ الْمُنْكَرِ بِالْمَعْرُوفِ. قَالَ: فَمَا الشَّرَفُ؟ قَالَ: اصْطِناعُ الْعَشِيرَةِ، وَحَمْلُ الْجَرِيرَةِ، ومُوافَقَةُ الْإِخْوانِ، وَحِفْظُ الْجِيرَانِ. قَالَ: فَمَا الْمُرُوءَةُ؟ قَالَ: الْعَفَافُ، وَإِصْلَاحُ الْمَالِ. قَالَ: فَمَا الدِّقَّةُ؟ قَالَ: النَّظَرُ فِي الْيَسِيرِ، وَمَنْعُ الْحَقِيرِ. قَالَ: فَمَا اللَّومُ؟ قَالَ: إِحْرَازُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ، وبَذْلُهُ عُرْسَهُ. قَالَ: فَمَا السَّمَاحَةُ؟ قَالَ: الْبَذْلُ مِنَ الْعَسِيرِ وَالْيَسِيرِ. قَالَ: فَمَا الشُّحُّ؟ قَالَ: أَنْ تَرَى مَا أَنْفَقْتَهُ تَلَفًا. قَالَ: فَمَا الْإِخَاءُ؟ قَالَ: الْمُوَاسَاةُ فِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ. قَالَ: فَمَا الْجُبْنُ؟ قَالَ: الْجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ الْعَدُوِّ. قَالَ: فَمَا الْغَنِيمَةُ؟ قَالَ: الرَّغْبَةُ فِي التَّقْوَى، وَالزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا هِيَ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ. قَالَ: فَمَا الْحِلْمُ؟ قَالَ: كَظْمُ الْغَيْظِ، وَمِلْكُ النَّفْسِ. قَالَ: فَمَا الْغِنَى؟ قَالَ: رِضَى النَّفْسِ بِمَا قَسَمَ اللهُ تَعَالَى لَهَا وَإِنْ قَلَّ، وَإِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ. قَالَ: فَمَا الْفَقْرُ؟ قَالَ: شَرَهُ النَّفْسِ فِي كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: فَمَا الْمَنَعَةُ؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَأْسِ، ومُنازَعَةُ أَعِزَّاءِ النَّاسِ. قَالَ: فَمَا الذُّلُّ؟ قَالَ: الْفَزَعُ عِنْدَ الْمَصْدُوقَةِ. قَالَ: فَمَا الْعِيُّ؟ قَالَ: الْعَبَثُ بِاللِّحْيَةِ، وَكَثْرَةُ الْبَزْقِ عِنْدَ الْمُخاطَبَةِ. قَالَ: فَمَا الْجُرْأَةُ؟ قَالَ: مُوَافَقَةُ الْأَقْرَانِ. قَالَ: فَمَا الْكُلْفَةُ؟ قَالَ: كَلَامُكُ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ. قَالَ: فَمَا الْمَجْدُ؟ قَالَ: أَنْ تُعْطِيَ فِي الْغُرْمِ، وَتَعْفُوَ عَنِ الْجُرْمِ. قَالَ: فَمَا الْعَقْلُ؟ قَالَ: حِفْظُ الْقَلْبِ كُلَّمَا اسْتَوْعَيْتَهُ. قَالَ: فَمَا الْخُرْقُ؟ قَالَ: مُعَازَتُكَ إِمَامَكَ، ورَفْعُكَ عَلَيْهِ كَلَامَكَ. قَالَ: فَمَا حُسْنُ الثَّنَاءِ؟ قَالَ: إِتْيَانُ الْجَمِيلِ وَتَرْكُ الْقَبِيحِ. قَالَ: فَمَا الْحَزْمُ؟ قَالَ: طُولُ الْأَنَاةِ، وَالرِّفْقُ بِالْوُلَاةِ. قَالَ: فَمَا السَّفَهُ؟ قَالَ: اتِّبَاعُ الدَّناءَةِ، وَمُصاحَبَةُ الْغُوَاةِ. قَالَ: فَمَا الْغَفْلَةُ؟ قَالَ: تَرْكُكَ الْمَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ الْمُفْسِدَ. قَالَ: فَمَا الْحِرْمَانُ؟ قَالَ: تَرْكُكَ حَظَّكَ وَقَدْ عُرِضَ عَلَيْكَ. قَالَ: فَمَا الْمُفْسِدُ؟ قَالَ: الْأَحْمَقُ فِي مَالِهِ، الْمُتَهَاوِنُ فِي عِرْضِهِ. ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا فَقْرَ أَشَدُّ مِنَ الْجَهْلِ، وَلَا مَالَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ، وَلَا وَحْدَةَ أَوْحَشُ مِنَ الْعُجْبِ، وَلَا اسْتِظْهارَ أَوْفَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ، وَلَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخَلْقِ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلَا عِبَادَةَ كالتَّفَكُّرِ، وَلَا إِيمَانَ كَالْحَيَاءِ وَالصَّبْرِ، وَآفَةُ الْحَدِيثِ الْكَذِبُ، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَآفَةُ الْحِلْمِ السَّفَهُ، وَآفَةُ الْعِبَادَةِ الْفَتْرَةُ، وَآفَةُ الظَّرْفِ الصَّلَفُ، وَآفَةُ الشَّجَاعَةِ الْبَغْيُ، وَآفَةُ السَّمَاحَةِ الْمَنُّ، وَآفَةُ الْجَمَالِ الْخُيَلَاءُ، وَآفَةُ الْحَسَبِ الْفَخْرُ» . يَا بُنَيَّ، لَا تَسْتَخِفَّنَّ بِرَجُلٍ تَرَاهُ أَبَدًا، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ أَبُوكَ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَكَ فَهُوَ أَخُوكَ، وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَ مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ ابْنُكَ. قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحَبَطِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّيَّاتُ، وَلَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ترجمہ
… محرومی کیا ہے؟ فرمایا: اپنا حصہ چھوڑ دینا جبکہ وہ تمہیں پیش کیا گیا ہو۔ پوچھا گیا: بگاڑنے والا کون ہے؟ فرمایا: وہ جو اپنے مال میں بےوقوف ہو، اور اپنی عزت کے معاملے میں سست ہو۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں، عقل سے بڑھ کر کوئی مال فائدہ مند نہیں، خود پسندی سے بڑھ کر کوئی تنہائی ویران نہیں، مشورے سے بڑھ کر کوئی سہارا موزوں نہیں، دور اندیشی جیسی کوئی عقل نہیں، اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں، ضبطِ نفس جیسا کوئی تقویٰ نہیں، غور و فکر جیسی کوئی عبادت نہیں، حیا اور صبر جیسا کوئی ایمان نہیں۔ بات کی آفت جھوٹ ہے، علم کی آفت بھول جانا ہے، بردباری کی آفت بےوقوفی ہے، عبادت کی آفت سستی ہے، ظرافت کی آفت شیخی بگھارنا ہے، بہادری کی آفت زیادتی ہے، فیاضی کی آفت احسان جتانا ہے، خوبصورتی کی آفت تکبر ہے، اور نسب کی آفت فخر کرنا ہے۔“ اے میرے بیٹے! کبھی کسی ایسے شخص کو حقیر نہ سمجھنا جسے تم دیکھو، اگر وہ تم سے بہتر ہے تو اسے اپنا باپ سمجھو، اگر وہ تمہارے برابر ہے تو وہ تمہارا بھائی ہے، اور اگر وہ تم سے چھوٹا ہے تو اسے اپنا بیٹا سمجھو۔
امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے صرف محمد بن عبداللہ ابورجاء حبطی نے روایت کی ہے، اور اسے صرف عثمان بن سعید زیات نے روایت کیا ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے مروی ہے۔
امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے صرف محمد بن عبداللہ ابورجاء حبطی نے روایت کی ہے، اور اسے صرف عثمان بن سعید زیات نے روایت کیا ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَكْعَتَيِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «هُمَا قَاضِيَتَانِ عَمَّا سِوَاهُمَا»
ترجمہ
مسلم بن عیاض کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے جمعہ کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ دونوں باقی (نوافل) کی کمی پوری کر دیتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَ زِيَادٌ يَتَتَبَّعُ شِيعَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيَقْتَلُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ تَفَرَّدْ بِمَوْتِهِ؛ فَإِنَّ الْقَتْلَ كَفَّارَةٌ»
ترجمہ
حسن (بصری) کہتے ہیں: زیاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیروکاروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا کرتا تھا، تو یہ بات سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ! تو خود اکیلا اس کی موت کا انتظام فرما، کیونکہ قتل ہونا (شہید کے لیے) کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الْحَسَنِ، وَجَارِيَةٌ تَحُتُّ شَيْئًا مِنَ الْحِنَّاءِ عَنْ أَظْفَارِهِ، فَجَاءَتْهُ إِضْبارَةٌ مِنْ كُتُبٍ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ هَاتِ الْمِخْضَبَ. فَصَبَّ فِيهِ مَاءً، وَأَلْقَى الْكُتُبَ فِي الْمَاءِ، فَلَمْ يَفْتَحْ مِنْهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مِمَّنْ هَذِهِ الْكُتُبُ؟ قَالَ: «مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، مِنْ قَوْمٍ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى حَقٍّ، وَلَا يُقْصِرُونَ عَنْ بَاطِلٍ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَخْشَاهُمْ عَلَى نَفْسِي، ولَكِنِّي أَخْشَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ. وَأَشَارَ إِلَى الْحُسَيْنِ»
ترجمہ
… تو انہوں (سیدنا حسن رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اے باندی! لگن لے آؤ۔ تو اس میں پانی ڈالا اور خطوط اس پانی میں ڈال دیے، ان میں سے کوئی خط کھولا نہیں اور نہ ہی انہیں دیکھا۔ تو میں نے عرض کیا: اے ابومحمد! یہ خطوط کن کی طرف سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”عراق والوں کی طرف سے، ایک ایسی قوم جو نہ حق کی طرف لوٹتی ہے اور نہ باطل سے رکتی ہے۔ سن لو، مجھے ان کا خوف اپنی جان کے لیے نہیں، بلکہ اس کے لیے ہے“ - اور آپ نے سیدنا حسین کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَخْرِجُونِي إِلَى الصَّحْرَاءِ لَعَلِيِّ أَنْظُرُ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ. يَعْنِي الْآيَاتِ، فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ نَفْسِي عِنْدَكَ، فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيَّ. وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللهُ لَهُ أَنَّهُ احْتَسَبَ نَفْسَهُ»
ترجمہ
رقبہ بن مصقلہ کہتے ہیں: جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے کھلے صحرا میں لے جاؤ، شاید میں آسمانوں کی بادشاہت میں غور کروں - یعنی (کائناتی) نشانیوں میں۔ تو جب انہیں باہر لے جایا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ! میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اور اس کا ثواب تجھ سے چاہتا ہوں، کیونکہ یہ مجھے سب سے زیادہ عزیز جان ہے۔“ اور اللہ نے ان کے لیے جو کچھ کیا اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنی جان (اللہ کے سپرد کرنے) کا ثواب طلب کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ يَقُولُ: «تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَأَرْبَعِينَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سینتالیس برس کی عمر میں وفات پا گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ أَنَّ سَعْدًا وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَاتَا فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَيَرَوْنَ أَنَّهُ سَمَّهُ "
ترجمہ
ابوبکر بن حفص کہتے ہیں: سیدنا سعد اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں وفات پا گئے، تو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ يَقُولُ: «تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سَنَةَ تِسْعٍ وَأَرْبَعِينَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سنہ انچاس ہجری میں، ربیع الاول کے مہینے میں وفات پا گئے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَنَةَ تِسْعٍ وَأَرْبَعِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَكَانَ مَوْتُهُ بِالْمَدِينَةِ وَسِنُّهُ سِتٌّ أَوْ سَبْعٌ وَأَرْبَعُونَ»
ترجمہ
ابوالزنباع روح بن فرج مصری کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سنہ انچاس ہجری میں وفات پا گئے، اور سعید بن العاص نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور ان کی وفات مدینہ میں ہوئی، اور ان کی عمر چھیالیس یا سینتالیس برس تھی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَدَوِيَّةَ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُخْرِجَ بِسَرِيرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَدْفِنَهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَافَ أَنْ يَمْنَعَهُ بَنُو أُمَيَّةَ، فَلَمَّا انْتَهَوْا بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ قَامَتْ بَنُو أُمَيَّةَ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنْ مَنَعُوكُمْ فَادْفِنُونِي مَعَ أُمِّي»
ترجمہ
… انہیں خدشہ تھا کہ بنو امیہ انہیں روک دیں گے، تو جب انہیں مسجد میں لے آئے تو بنو امیہ کھڑے ہو گئے، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے انہیں کہتے سنا تھا: ”اگر وہ تمہیں روک دیں تو مجھے میری ماں کے ساتھ دفن کر دینا۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَيِيُّ، وَإِنَّ لَهُ كَلَامًا وَرَأَيًا، وَإِنَّهُ قَدْ عَلِمْنَا كَلَامَهُ، فَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا فَلَا يَجِدُ كَلَامًا. فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا. فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَصَعِدَ عَمْرٌو الْمِنْبَرَ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَوَقَعَ فِيهِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: اصْعَدْ، فَقَالَ: لَا أَصْعَدُ وَلَا أَتَكَلَّمُ حَتَّى تُعْطُونِي إِنْ قُلْتُ حَقًّا أَنْ تُصَدِّقُونِي، وَإِنْ قُلْتُ بَاطِلًا أَنْ تُكَذِّبُونِي. فَأَعْطَوْهُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: بِاللهِ يَا عَمْرُو وَأَنْتَ يَا مُغِيرَةُ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللهُ السَّائِقَ وَالرَّاكِبَ» أَحَدُهُمَا فُلَانٌ؟ قَالَا: اللهُمَّ نَعَمْ بَلَى. قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا مُعَاوِيَةُ وَيَا مُغِيرَةُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ عَمْرًا بِكُلِّ قَافِيَةٍ قَالَهَا لَعْنَةً؟ قَالَا: اللهُمَّ بَلَى. قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا عَمْرُو وَأَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ قَوْمَ هَذَا؟ قَالَا: بَلَى. قَالَ الْحَسَنُ: فَإِنِّي أَحْمَدُ اللهَ الَّذِي وَقَعْتُمْ فِيمَنْ تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
… اور اگر میں کوئی باطل بات کہوں تو مجھے جھٹلا دینا۔ تو انہوں نے اجازت دے دی، تو وہ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ کی قسم اے عمرو! اور تم اے مغیرہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اللہ ہانکنے والے اور سوار ہونے والے پر لعنت کرے“، کیا ان میں سے ایک فلاں تھا؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں، کیوں نہیں۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اے معاویہ اور اے مغیرہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو کے ہر شعر پر جو اس نے کہا، اس پر لعنت کی؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اے عمرو! اور تم اے معاویہ بن ابی سفیان! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی قوم پر لعنت کی؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو میں اس اللہ کی حمد کرتا ہوں جس نے تمہیں اس گروہ میں شامل کیا جس نے اس سے براءت ظاہر کی۔ راوی نے مزید حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ السِّيرَافِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ عَيِيٌّ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تَقُولَا ذَلِكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَفَلَ فِي فِيهِ، وَمَنْ تَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِيهِ فَلَيْسَ بِعَيِيٍّ. فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو فَإِنَّهُ تَنَازَعَ فِيكَ رَجُلَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَبُوكَ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ رِعْلًا وَذَكْوانَ وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ»
ترجمہ
… یہ بات نہ کہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے منہ میں اپنا لعاب ڈالا تھا، اور جس کے منہ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنا لعاب ڈالا ہو وہ نااہل نہیں ہو سکتا۔ تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں اے عمرو! تو دو آدمیوں نے تمہارے بارے میں جھگڑا کیا تھا، تو دیکھ لو ان میں سے تمہارا باپ کون ہے؛ اور تمہارے بارے میں اے ابوالاعور! تو رسول اللہ ﷺ نے رعل، ذکوان اور عمرو بن سفیان پر لعنت کی تھی۔“