المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما باب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الْحَسَنِ، وَجَارِيَةٌ تَحُتُّ شَيْئًا مِنَ الْحِنَّاءِ عَنْ أَظْفَارِهِ، فَجَاءَتْهُ إِضْبارَةٌ مِنْ كُتُبٍ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ هَاتِ الْمِخْضَبَ. فَصَبَّ فِيهِ مَاءً، وَأَلْقَى الْكُتُبَ فِي الْمَاءِ، فَلَمْ يَفْتَحْ مِنْهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مِمَّنْ هَذِهِ الْكُتُبُ؟ قَالَ: «مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، مِنْ قَوْمٍ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى حَقٍّ، وَلَا يُقْصِرُونَ عَنْ بَاطِلٍ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَخْشَاهُمْ عَلَى نَفْسِي، ولَكِنِّي أَخْشَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ. وَأَشَارَ إِلَى الْحُسَيْنِ»یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، اور ایک باندی ان کے ناخنوں سے مہندی کچھ کھرچ رہی تھی، اتنے میں ان کے پاس خطوط کا ایک پلندہ آیا، تو انہوں نے فرمایا: اے باندی! لگن لے آؤ۔ تو اس میں پانی ڈالا اور خطوط اس پانی میں ڈال دیے، ان میں سے کوئی خط کھولا نہیں اور نہ ہی انہیں دیکھا۔ تو میں نے عرض کیا: اے ابومحمد! یہ خطوط کن کی طرف سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”عراق والوں کی طرف سے، ایک ایسی قوم جو نہ حق کی طرف لوٹتی ہے اور نہ باطل سے رکتی ہے۔ سن لو، مجھے ان کا خوف اپنی جان کے لیے نہیں، بلکہ اس کے لیے ہے“ اور آپ نے سیدنا حسین کی طرف اشارہ کیا۔