❮
❯
حدیث نمبر: 2685
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَيِيُّ، وَإِنَّ لَهُ كَلَامًا وَرَأَيًا، وَإِنَّهُ قَدْ عَلِمْنَا كَلَامَهُ، فَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا فَلَا يَجِدُ كَلَامًا. فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا. فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَصَعِدَ عَمْرٌو الْمِنْبَرَ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَوَقَعَ فِيهِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: اصْعَدْ، فَقَالَ: لَا أَصْعَدُ وَلَا أَتَكَلَّمُ حَتَّى تُعْطُونِي إِنْ قُلْتُ حَقًّا أَنْ تُصَدِّقُونِي، وَإِنْ قُلْتُ بَاطِلًا أَنْ تُكَذِّبُونِي. فَأَعْطَوْهُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: بِاللهِ يَا عَمْرُو وَأَنْتَ يَا مُغِيرَةُ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللهُ السَّائِقَ وَالرَّاكِبَ» أَحَدُهُمَا فُلَانٌ؟ قَالَا: اللهُمَّ نَعَمْ بَلَى. قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا مُعَاوِيَةُ وَيَا مُغِيرَةُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ عَمْرًا بِكُلِّ قَافِيَةٍ قَالَهَا لَعْنَةً؟ قَالَا: اللهُمَّ بَلَى. قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا عَمْرُو وَأَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ قَوْمَ هَذَا؟ قَالَا: بَلَى. قَالَ الْحَسَنُ: فَإِنِّي أَحْمَدُ اللهَ الَّذِي وَقَعْتُمْ فِيمَنْ تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ

ابومجلز رحمہ اللہ (کے قول کے مطابق) کہتے ہیں: عمرو بن عاص اور مغیرہ بن شعبہ نے معاویہ سے کہا: حسن بن علی کند زبان ہیں، اگرچہ ان میں بات کرنے کی صلاحیت اور رائے موجود ہے، اور ہم ان کا انداز جانتے ہیں، وہ بات شروع کریں گے تو آگے بات نہیں پائیں گے۔ معاویہ نے کہا: ایسا مت کرو۔ لیکن ان دونوں نے انکار کیا، تو عمرو منبر پر چڑھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کی توہین کی۔ پھر مغیرہ بن شعبہ چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی توہین کی۔ پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: چڑھو۔ تو انہوں نے فرمایا: میں نہ چڑھوں گا نہ بات کروں گا جب تک تم مجھے یہ یقین نہ دلاؤ کہ اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرو گے، اور اگر باطل کہوں تو مجھے جھٹلاؤ گے۔ تو انہوں نے یہ بات مان لی، پھر وہ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ کی قسم اے عمرو! اور تم اے مغیرہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اللہ ہانکنے والے اور سوار ہونے والے پر لعنت کرے“، کیا ان میں سے ایک فلاں تھا؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں، کیوں نہیں۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اے معاویہ اور اے مغیرہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو کے ہر شعر پر جو اس نے کہا، اس پر لعنت کی؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اے عمرو! اور تم اے معاویہ بن ابی سفیان! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی قوم پر لعنت کی؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو میں اللہ کی حمد کرتا ہوں کہ تم نے ایسے شخص کی برائی کی جو اس سب سے بری تھا۔ راوی نے مزید حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2685
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 71، حدیث 2698