حدیث نمبر: 2670
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحانٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا؟ السَّبَبُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فاسْتَمْسِكُوا بِهِ، وَلَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِيَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»
ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں، اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، ایک ایسا حوض جو صنعاء اور بصریٰ کے درمیانی فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں، اور جب تم مجھ سے آ ملو گے تو میں تم سے ثقلین کے بارے میں پوچھوں گا، تو دیکھو میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟ بڑی رسی اللہ عزوجل کی کتاب ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، تو اسے تھامے رکھو، اور نہ گمراہ ہو اور نہ اسے بدلو، اور میری عترت، میرے اہل بیت، کیونکہ باریک بین اور باخبر (اللہ) نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2670
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 67، حدیث 2683