حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَخْرِجُونِي إِلَى الصَّحْرَاءِ لَعَلِيِّ أَنْظُرُ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ. يَعْنِي الْآيَاتِ، فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ نَفْسِي عِنْدَكَ، فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيَّ. وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللهُ لَهُ أَنَّهُ احْتَسَبَ نَفْسَهُ»
ترجمہ

رقبہ بن مصقلہ کہتے ہیں: جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے کھلے صحرا میں لے جاؤ، شاید میں آسمانوں کی بادشاہت میں غور کروں - یعنی (کائناتی) نشانیوں میں۔ تو جب انہیں باہر لے جایا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ! میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اور اس کا ثواب تجھ سے چاہتا ہوں، کیونکہ یہ مجھے سب سے زیادہ عزیز جان ہے۔“ اور اللہ نے ان کے لیے جو کچھ کیا اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنی جان (اللہ کے سپرد کرنے) کا ثواب طلب کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2679
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 70، حدیث 2692