کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہ، جو غزوہ حنین کے دن شہید ہوئے: وہ ایمن بن عبید ہیں، بنو عوف بن خزرج کے بھائی، اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ " فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: أَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ "
ترجمہ
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: حنین کے دن شہید ہونے والوں میں یہ نام ہے: ایمن بن عبید۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ فَارٌّ مِنَ الْقِتَالِ، «فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ» قَالَ سَعْدٌ: فَقُلْتُ: «مَا رَأَيْتُ خُطْبَةً أَبْعَدَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ» ثُمَّ إِنَّهُمُ احْتَضَرُوا الْقِتَالَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ سَعْدٌ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَيْمَنَ أَعْتَكَ الْقَوْمَ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَيْمَنَ: لَقَدْ حُدِّثْتُ أَنَّكَ لَا تَقُومُ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ جُبْنًا، فَقَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَقُومَ مَقَامًا يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ لَخَلِيقٌ أَنْ تَفْعَلَ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں نے ایمن کو لڑائی سے بھاگتے دیکھا، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس ہوئی۔ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دل میں کہا: میں نے کوئی بات ایسی نہیں دیکھی جو ہر بھلائی سے اس قدر دور ہو۔ پھر اس کے بعد جب انہیں لڑائی کا سامنا ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایمن کو لوگوں کے خلاف نہایت بہادری سے لڑتے دیکھا، اور یہ بات نبی کریم ﷺ کو بہت پسند آئی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایمن سے کہا: مجھے بتایا گیا کہ تم بزدلی کی وجہ سے دونوں صفوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا: مجھے امید ہے کہ میں ایسے مقام پر کھڑا ہوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم واقعی ایسا کرنے کے اہل ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، قَالَ: «كَانَ أَيْمَنُ عَلَى مَطْهَرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ، وَيُعَاطِيهِ حَاجَتَهُ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ”سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے وضو کے پانی اور آپ کی جوتیوں کے ذمہ دار تھے، اور آپ کو ضرورت کی چیزیں پیش کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ الْحَبَشِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْنَى مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ ثَمَنُ الْمِجَنِّ» ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ يُقَوَّمُ دِينَارًا
ترجمہ
سیدنا ایمن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ کم از کم ایک ڈھال کی قیمت چرانے پر کاٹا جاتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اور اس کی قیمت ایک دینار مقرر تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِيِ الْأَدْنَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ الْحَبَشِيِّ، قَالَ: «كَانَتِ الْأَيْدِي تُقْطَعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ»
ترجمہ
سیدنا ایمن حبشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک ڈھال کی قیمت چرانے پر ہاتھ کاٹے جاتے تھے۔“