حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، فَلَقِيتُ مُطَرِّفًا فَحَدَّثَنِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ: أَلَا تُقَاتِلُ مَعَنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَانِي أَنْ لَا أُقَاتِلَ، ثُمَّ أَنْشَدَ يَقُولُ:
[البحر الوافر]
وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ
لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ جُرْمِي ... مَعَاذَ اللهِ مِنْ فَشَلٍ وَطَيْشِ
أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ جُرْمٍ ... فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي "
[البحر الوافر]
وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ
لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ جُرْمِي ... مَعَاذَ اللهِ مِنْ فَشَلٍ وَطَيْشِ
أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ جُرْمٍ ... فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي "
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے ایمن بن خریم سے کہا: کیا تم ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: ”میرے والد اور میرے چچا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے، اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مسلمانوں سے جنگ نہ کروں۔“ پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے:
میں ایسے شخص کو قتل کرنے والا نہیں جو نماز پڑھتا ہو، چاہے وہ قریش کی کسی اور حکومت کی بیعت میں ہو۔
اس کی حکومت اسی کی ذمہ داری ہے اور میرا گناہ مجھ پر، میں کمزوری اور بےسمجھی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
کیا میں کسی مسلمان کو بغیر کسی جرم کے قتل کر دوں؟ یہ بات مجھے زندگی بھر کبھی فائدہ نہیں دے گی۔
میں ایسے شخص کو قتل کرنے والا نہیں جو نماز پڑھتا ہو، چاہے وہ قریش کی کسی اور حکومت کی بیعت میں ہو۔
اس کی حکومت اسی کی ذمہ داری ہے اور میرا گناہ مجھ پر، میں کمزوری اور بےسمجھی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
کیا میں کسی مسلمان کو بغیر کسی جرم کے قتل کر دوں؟ یہ بات مجھے زندگی بھر کبھی فائدہ نہیں دے گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبَانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يُقَاتِلُ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهُ أَيْمَنُ بْنُ خُرَيْمٍ: أَلَا تُقَاتِلُ مَعَنَا؟ فَقَالَ: «لَا، إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِنْ أَتَيْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ» فَقَالَ: اذْهَبْ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ، فَقَالَ أَيْمَنُ: «
[البحر الوافر]
وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ
لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ... مَعَاذَ اللهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ»
[البحر الوافر]
وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ
لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ... مَعَاذَ اللهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ مروان بن حکم ضحاک بن قیس سے جنگ کر رہا تھا، تو اس نے بنو اسد کے ایک شخص سے، جسے ایمن بن خریم کہا جاتا تھا، کہا: کیا تم ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، میرے والد اور میرے چچا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک رہے، اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں کسی ایسے شخص سے جنگ نہ کروں جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر تم مجھے آگ سے نجات کی ضمانت لا دو تو میں تمہارے ساتھ لڑوں گا۔“ اس نے کہا: جاؤ، ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ تو ایمن نے یہ شعر پڑھے:
میں ایسے شخص کو قتل کرنے والا نہیں جو نماز پڑھتا ہو، چاہے وہ قریش کی کسی اور حکومت کی بیعت میں ہو۔
اس کی حکومت اسی کی ذمہ داری ہے اور میرا گناہ مجھ پر، میں جہالت اور بےسمجھی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
میں ایسے شخص کو قتل کرنے والا نہیں جو نماز پڑھتا ہو، چاہے وہ قریش کی کسی اور حکومت کی بیعت میں ہو۔
اس کی حکومت اسی کی ذمہ داری ہے اور میرا گناہ مجھ پر، میں جہالت اور بےسمجھی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔