کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عمامہ پہننے اور دعا وغیرہ کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالُوا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ أُسَامَةَ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَثَرَ بَعِيرُنَا، فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُلْ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّهُ يَعْظُمُ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولَ: بِقُوَّتِي، قُلْ: بِسْمِ اللهِ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ مِثْلَ الذُّبَابِ "
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ ہمارا اونٹ لڑکھڑا گیا، تو میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مت کہو کہ شیطان ہلاک ہو، کیونکہ وہ (اس بات پر) اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ گھر جتنا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: میری طاقت سے (یہ ہوا)، بلکہ کہو: ”بسم اللہ“، تو وہ مکھی جتنا چھوٹا ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْليُ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنِي عِيسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِمُوا تَزْدَادُوا حِلْمًا»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عشاء کی نماز دیر سے پڑھو، اس سے تمہاری بردباری بڑھے گی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:: «نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَعَلَيْهَا الْعَمَائِمُ، وَكَانَتْ عَلَى الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ عِمَامَةٌ صَفْرَاءُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بدر کے دن فرشتے عماموں کے ساتھ نازل ہوئے، اور اس دن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے سر پر ایک پیلا عمامہ تھا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُمَينْةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى التَّمَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، ثنا عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَشْكُرُ اللهُ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، اللہ اس کا شکر قبول نہیں فرماتا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرُّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا الْغَسَّانِيُّ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، وَمُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ فجر کی (سنت کی) دو رکعتیں پڑھیں، وہ آپ ﷺ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، تو انہوں نے آپ ﷺ کو تین بار یہ کہتے سنا: ”اے اللہ! جبریل، میکائیل، اسرافیل اور محمد ﷺ کے رب! میں آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ السُّكَّرِيُّ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ حَكِيمٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الَّتِي زِيدَتْ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ صَاحِبُهَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ بِهَا بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ» . فَقَالَ: فَجَاءَ عُثْمَانُ فَقَالَ لَهُ: لَكَ بِهَا عَشْرَةُ آلَافٍ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْتَرِ مِنِّي الْبُقْعَةَ الَّتِي اشْتَرَيْتُهَا مِنَ الْأَنْصَارِيِّ، فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا بِعَشَرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِنَةً، ثُمَّ دَعَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ دَعَا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: «ضَعُوا» فَوَضَعُوا
ترجمہ
…راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس قطعہ زمین کے مالک سے فرمایا جو مسجدِ مدینہ میں شامل کیا گیا، اور اس کا مالک انصار میں سے ایک شخص تھا، نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہارے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور اس سے کہا: تمہیں اس کے بدلے دس ہزار (درہم) ملیں گے، چنانچہ انہوں نے وہ زمین اس سے خرید لی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! جو قطعہ میں نے انصاری سے خریدا ہے وہ مجھ سے خرید لیجیے، تو آپ ﷺ نے وہ زمین ان سے جنت کے ایک گھر کے بدلے خرید لی۔ عثمان نے کہا: میں نے یہ زمین دس ہزار درہم میں خریدی تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک اینٹ رکھی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے ایک اینٹ رکھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے ایک اینٹ رکھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک اینٹ رکھی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”تم بھی رکھو“، تو انہوں نے (بھی) اینٹیں رکھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: «اسْمُ أَبِي الْمَلِيحِ عَامِرُ بْنُ أُسَامَةَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ حضرمی کہتے ہیں: میں نے محمد بن عبداللہ بن نمیر کو یہ کہتے سنا: ”ابوالملیح کا نام عامر بن اسامہ ہے۔“