❮
❯
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شَقْرَةَ يُقَالُ لَهُ: أَصْرَمُ كَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَاهُ بِغُلَامٍ لَهُ حَبَشِيٍّ اشْتَرَاهُ بِتِلْكَ الْبِلَادِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُسَمِّيَهُ وَتَدْعُوَ لَهُ بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: «مَا اسْمُكَ أَنْتَ؟» قَالَ: قَالَ: أَصْرَمُ. قَالَ: «بَلِ أَنْتَ زُرْعَةُ» . قَالَ: «فَمَا تُرِيدُهُ؟» قَالَ: أُرِيدُهُ رَاعِيًا، قَالَ: «فَهُوَ عَاصِمٌ» وَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ
ترجمہ

سیدنا اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو شقرہ کے ایک شخص کا نام اصرم تھا، وہ اس گروہ میں شامل تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: وہ ایک حبشی غلام لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا جسے اس نے اسی علاقے سے خریدا تھا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے یہ غلام خریدا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام رکھ دیں اور اس کے لیے برکت کی دعا فرما دیں۔ آپ ﷺ نے (اس شخص سے) فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: اصرم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمہارا نام زرعہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے (غلام کو) کس کام کے لیے چاہتے ہو؟“ اس نے کہا: میں اسے چرواہا بنانا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ عاصم ہے (یعنی حفاظت کرنے والا)“، اور نبی کریم ﷺ نے اپنی ہتھیلی بند کر لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 520
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 196، حدیث 523