کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: دیت کا بیان
❮
❯
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ فِيهَا امْرَأَتَانِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا " فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَرْأَةِ بِالْعَقْلِ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ، أَوْ أَمَةٍ، أَوْ بِفَرَسٍ، أَوْ بَعِيرَيْنِ مِنَ الْإِبِلِ، أَوْ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِ الْقَاتِلَةِ: كَيْفَ نَعْقِلُ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجَّاعَةٌ أَنْتَ؟» وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ»
ترجمہ
ابوالملیح کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، وہ کہتے ہیں: (ہمارے قبیلے میں) دو عورتیں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک لکڑی (خیمے کے کھمبے) سے مارا، جس سے وہ مر گئی اور اس کے پیٹ میں جو (بچہ) تھا وہ بھی مر گیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے (مقتولہ) عورت کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا، اور جنین کے لیے ایک غرہ (کا فیصلہ کیا): ایک غلام، یا لونڈی، یا ایک گھوڑا، یا اونٹوں میں سے دو اونٹ، یا اتنی اتنی بکریاں۔ تو قاتلہ عورت کے قبیلے میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! ہم اس (بچے) کی دیت کیسے ادا کریں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چلایا اور نہ چیخا؟ ایسے (بچے کی موت) تو رائیگاں جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو سجع بازی کر رہا ہے؟“ اور رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کی میراث اس کے شوہر اور اس کی اولاد کے لیے ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ (خاندان والوں) پر ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 510
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 193، حدیث 513
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ تَمَّامٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ، لَهُ امْرَأَتَانِ إِحْدَاهُمَا هُذَلَيَّةٌ، وَالْأُخْرَى عَامِرَيَّةٌ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ بَطْنَ الْعَامِرِيَّةِ بِعَمُودِ خِبَاءٍ - أَوْ فُسْطَاطٍ - فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا أَخٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ: عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ، فَلَمَّا قَصُّوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَّةَ قَالَ: «دُوهُ» . فَقَالَ عِمْرَانُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنَدِي مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ مِثْلُ هَذَا يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْنِي مِنْ رِجْزِ الْأَعْرَابِ، فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ خَمْسُمِائَةٍ أَوْ فَرَسٌ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِئَةُ شَاةٍ " فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ، وَهُمْ أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ، قَالَ: «أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا» . قَالَ: مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ. قَالَ: «يَا حَمَلُ بْنَ مَالِكٍ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ، وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَتَيْنِ، وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ - اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِئَةَ شَاةٍ» فَفَعَلَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم میں ایک شخص تھا جسے حَمَل بن مالک کہا جاتا تھا، اس کی دو بیویاں تھیں، ایک قبیلہ ہذیل سے اور دوسری قبیلہ عامر سے۔ ہذیلیہ نے عامریہ کے پیٹ پر خیمے کے کھمبے سے مارا، جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا اور بچہ مردہ پیدا ہوا۔ تو مارنے والی عورت کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے جایا گیا، اور اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا جسے عمران بن عویمر کہا جاتا تھا، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پورا واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے (دیت) دو۔“ عمران نے کہا: یا نبی اللہ! کیا ہم اس (بچے) کی دیت دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ چلایا نہ چیخا؟ ایسے (بچے کی موت) تو رائیگاں جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بدووں کی سجع بازی سے بچا، اس میں غرہ (لازم) ہے: ایک غلام یا لونڈی، یا پانچ سو (درہم)، یا ایک گھوڑا، یا ایک سو بیس بکریاں۔“ اس نے کہا: یا نبی اللہ! اس (مارنے والی عورت) کے دو بیٹے ہیں جو قبیلے کے سردار ہیں، وہی اپنی ماں کی طرف سے دیت ادا کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرنے کے اس کے بیٹوں سے زیادہ حقدار ہو۔“ اس نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں جس سے میں دیت ادا کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حَمَل بن مالک - اور وہ اس وقت ہذیل (قبیلے) کے صدقات کے ذمہ دار تھے، اور وہ دونوں عورتوں کے شوہر اور مارے گئے بچے کے باپ تھے - ہذیل کے صدقات میں سے جو تمہارے پاس ہے اس میں سے ایک سو بیس بکریاں لے لو۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 511
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 193، حدیث 514
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 512
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 193، حدیث 515