المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب ما جاء في لبس العمائم والدعاء وغير ذلك باب: عمامہ پہننے اور دعا وغیرہ کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ السُّكَّرِيُّ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ حَكِيمٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الَّتِي زِيدَتْ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ صَاحِبُهَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ بِهَا بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ» . فَقَالَ: فَجَاءَ عُثْمَانُ فَقَالَ لَهُ: لَكَ بِهَا عَشْرَةُ آلَافٍ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْتَرِ مِنِّي الْبُقْعَةَ الَّتِي اشْتَرَيْتُهَا مِنَ الْأَنْصَارِيِّ، فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا بِعَشَرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِنَةً، ثُمَّ دَعَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ دَعَا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: «ضَعُوا» فَوَضَعُوا…راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس قطعہ زمین کے مالک سے فرمایا جو مسجدِ مدینہ میں شامل کیا گیا، اور اس کا مالک انصار میں سے ایک شخص تھا، نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہارے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور اس سے کہا: تمہیں اس کے بدلے دس ہزار (درہم) ملیں گے، چنانچہ انہوں نے وہ زمین اس سے خرید لی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! جو قطعہ میں نے انصاری سے خریدا ہے وہ مجھ سے خرید لیجیے، تو آپ ﷺ نے وہ زمین ان سے جنت کے ایک گھر کے بدلے خرید لی۔ عثمان نے کہا: میں نے یہ زمین دس ہزار درہم میں خریدی تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک اینٹ رکھی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے ایک اینٹ رکھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے ایک اینٹ رکھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک اینٹ رکھی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”تم بھی رکھو“، تو انہوں نے (بھی) اینٹیں رکھیں۔