المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب ما جاء في لزوم الجماعة، والنهي عن مفارقتها وغير ذلك باب: جماعت کو لازم پکڑنے اور اس سے جدا ہونے کی ممانعت وغیرہ کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ شَرِيكٍ الثَّعْلَبِيُّ، قَالَ: إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قُرِّبَتْ إِلَيْهِ جِنَازَةٌ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَالْتَفَتَ فَبَصُرَ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ، فَقَالَ: «رُدُّوهَا» فَرَدُّوهَا مِرَارًا حَتَّى تَوَارَتْ، فَلَمَّا رَآهَا تَوَارَتْ كَبَّرَ عَلَيْهَاترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک ثعلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز پڑھیں، آپ ﷺ نے مڑ کر دیکھا تو ایک عورت کو آتے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے واپس بھیجو۔“ چنانچہ اسے بار بار واپس بھیجا گیا یہاں تک کہ وہ اوجھل ہو گئی، جب آپ ﷺ نے اسے اوجھل ہوتے دیکھا تو جنازے پر تکبیر کہی۔