حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سِكِّينُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمَوْصِلِ، قَالَ: صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ بِأَرْضٍ قَفْرٍ، فَقَالَ: اسْتُرْنِي، فَسَتَرْتُهُ، فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ، فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ، قُلْتُ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ آثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَمَا وَاللهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ

…میں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا، پھر اچانک میری نظر اس کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ وہ تلواروں سے زخمی (کٹا پھٹا) تھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تم پر ایسے نشان دیکھے ہیں جو میں نے کسی اور پر کبھی نہیں دیکھے۔ اس نے کہا: کیا تم نے یہ دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: ”سن لو، اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی زخم ایسا نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور اللہ عزوجل کی راہ میں نہ لگا ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 228
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 120، حدیث 229