المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
صفة الزبير بن العوام رضي الله عنه باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا حلیہ
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سِكِّينُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمَوْصِلِ، قَالَ: صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ بِأَرْضٍ قَفْرٍ، فَقَالَ: اسْتُرْنِي، فَسَتَرْتُهُ، فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ، فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ، قُلْتُ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ آثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَمَا وَاللهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»حفص بن خالد کہتے ہیں: مجھے ایک بزرگ نے بتایا جو ہمارے پاس موصل سے آئے تھے، انہوں نے کہا: میں کسی سفر میں زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو ایک ویران زمین میں انہیں غسل کی حاجت پیش آئی، تو انہوں نے کہا: مجھے چھپا لو۔ میں نے ان کے لیے پردہ کیا، پھر اچانک میری نظر ان کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ ان کا جسم تلواروں سے کٹا پھٹا تھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ پر ایسے نشان دیکھے ہیں جو میں نے کسی اور پر کبھی نہیں دیکھے۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے یہ دیکھ لیا؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: ”سن لو، اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی زخم ایسا نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور اللہ عزوجل کی راہ میں نہ لگا ہو۔“