المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
صفة الزبير بن العوام رضي الله عنه باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا حلیہ
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: ضَرَبَ الزُّبَيْرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَصَاحَتْ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَأَقْبَلَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: أُمُّكُ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «أَتَجْعَلُ أُمِّي عُرْضَةً لِيَمِينِكَ؟» فَاقْتَحَمَ عَلَيْهِ، فَخَلَّصَهَا مِنْهُ، فَبَانَتْ مِنْهُ، قَالَ: «وَلَقَدْ كُنْتُ غُلَامًا رُبَّمَا أَخَذْتُ بِشَعْرِ مَنْكِبِيِ الزُّبَيْرِ»ترجمہ
…ہشام بن عروہ کہتے ہیں: زبیر نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مارا، تو انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو آواز دی، وہ آئے، تو جب زبیر نے اسے دیکھا تو کہا: تیری ماں کو طلاق ہے اگر تو اندر آیا۔ عبداللہ نے ان سے کہا: ”کیا آپ میری ماں کو اپنی قسم کا نشانہ بناتے ہیں؟“ پھر وہ اندر گھس آیا اور انہیں چھڑا لیا، تو وہ اسماء زبیر سے جدا ہو گئیں۔ ہشام کہتے ہیں: اور میں بچپن میں کبھی زبیر کے کندھوں کے بال پکڑ لیا کرتا تھا۔