قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ الْمَعِيشَةَ الضَّنْكَ الَّتِي قَالَ اللهُ تَعَالَى - هِيَ عَذَابُ الْقَبْرِ .
3660 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ : إِنَّ أَبَا السَّمْحِ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ .
3660 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ : إِنَّ أَبَا السَّمْحِ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ .
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشادِ گرامی ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾ [سورة طه: 124] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”بے شک وہ تنگ اور پُر مشقت زندگی جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس سے مراد عذابِ قبر ہے۔“
اسی طرح کی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک طویل حدیث کے دوران منقول ہے۔
اسی طرح کی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک طویل حدیث کے دوران منقول ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى: حدثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: إِنَّ أَبَا السَّمْحِ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْه، فَذَكَرَ نَحْوَهُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ.
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے (اپنی سند سے) ابن حجیرہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث کے ضمن میں اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : طه - أَيْ : طَا يَا رَجُلُ ، وَهِيَ بِالنَّبَطِيَّةِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿طه﴾ [سورة طه: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: "اس سے مراد «يَا رَجُلُ» "اے مرد!" ہے اور یہ کلمہ نبطی زبان کا ہے"۔
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی حافظے کی کمزوری کی وجہ سے محلِ نظر ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنیاد پر اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی حافظے کی کمزوری کی وجہ سے محلِ نظر ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنیاد پر اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ - أَيِ الْعِجْلُ - إِذَا خَارَ سَجَدُوا ، وَإِذَا سَكَتَ رَفَعُوا رُؤُوسَهُمْ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے (بچھڑے کے متعلق) روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب بھی وہ بچھڑا اپنی مخصوص آواز نکالتا تو وہ لوگ (بنی اسرائیل) سجدہ ریز ہو جاتے، اور جب وہ خاموش ہو جاتا تو وہ اپنے سر (سجدے سے) اٹھا لیتے۔“
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں فرقد بن یعقوب السَّبَخی راوی ضعیف ہے، نیز یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف روایت) ہے جو بظاہر سابقہ کتب کے واقعات (اسرائیلیات) سے ماخوذ ہے۔
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں فرقد بن یعقوب السَّبَخی راوی ضعیف ہے، نیز یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف روایت) ہے جو بظاہر سابقہ کتب کے واقعات (اسرائیلیات) سے ماخوذ ہے۔
وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا جُوَيْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : خُوَارٌ - قَالَ : خَارَ خَوْرَةً : لَمْ يُثَنِّ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : أَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلا ، وَقَالَ جَلَّ وَعَلَا : أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لا يُكَلِّمُهُمْ وَلا يَهْدِيهِمْ سَبِيلا .
ترجمہ
ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿خُوَارٌ﴾ [سورة الأعراف: 148] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”«خَارَ خَوْرَةً» اس (بچھڑے) نے محض ایک مرتبہ بیل کی طرح آواز نکالی تھی اور «لَمْ يُثَنِّ» اس نے اس آواز کو دوبارہ نہیں دہرایا تھا، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ عزوجل نے اس کی بے بسی بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا﴾ [سورة طه: 89] ”کیا وہ دیکھتے نہیں کہ وہ (بچھڑا) ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا“، اور اللہ جل وعلا نے مزید فرمایا ہے: ﴿أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا﴾ [سورة الأعراف: 148] ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ نہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی راستے کی رہنمائی کرتا ہے“۔
اس روایت کی سند میں موجود راوی جویبر بن سعید متروک اور سخت ضعیف ہے، نیز ضحاک کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع بھی ثابت نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ اثر سنداً ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند میں موجود راوی جویبر بن سعید متروک اور سخت ضعیف ہے، نیز ضحاک کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع بھی ثابت نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ اثر سنداً ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ قُسَيْطٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : نَزَلَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيْفٌ ، فَبَعَثَنِي إِلَى يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ : قُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ : بِعْنَا أَوْ أَسْلِفْنَا إِلَى رَجَبٍ فَقُلْتُ لَهُ .
فَقَالَ : وَاللهِ لَا أَبِيعُهُ وَلَا أُسْلِفُهُ إِلَّا بِرَهْنٍ . فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَاللهِ إِنَّهُ لَوْ بَاعَنِي أَوْ أَسْلَفَنِي لَقَضَيْتُهُ ، إِنِّي أَمِينٌ فِي السَّمَاءِ ، أَمِينٌ فِي الْأَرْضِ ، اذْهَبْ بِدِرْعِي الْحَدِيدِ . فَذَهَبْتُ بِهَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَعْزِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ .
فَقَالَ : وَاللهِ لَا أَبِيعُهُ وَلَا أُسْلِفُهُ إِلَّا بِرَهْنٍ . فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَاللهِ إِنَّهُ لَوْ بَاعَنِي أَوْ أَسْلَفَنِي لَقَضَيْتُهُ ، إِنِّي أَمِينٌ فِي السَّمَاءِ ، أَمِينٌ فِي الْأَرْضِ ، اذْهَبْ بِدِرْعِي الْحَدِيدِ . فَذَهَبْتُ بِهَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَعْزِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ .
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ہاں ایک مہمان تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھے ایک یہودی کے پاس بھیجا اور فرمایا: ”اس سے کہو کہ اللہ کے رسول ﷺ تم سے فرما رہے ہیں کہ ہمیں (غلہ) فروخت کر دو یا رجب کے مہینے تک کے لیے ادھار دے دو۔“ میں نے اسے جا کر یہ پیغام پہنچایا، تو اس نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! میں انہیں نہ تو کوئی چیز فروخت کروں گا اور نہ ہی ادھار دوں گا مگر یہ کہ وہ میرے پاس کوئی چیز بطورِ رہن (ضمانت) رکھیں۔“ میں نے واپس آکر نبی کریم ﷺ کو اس صورتحال سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے فروخت کر دیتا یا ادھار دے دیتا تو میں اسے (وقت پر) ضرور ادا کر دیتا، یقیناً میں آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں؛ میری لوہے کی زرہ لے کر اس یہودی کے پاس چلے جاؤ۔“ چنانچہ میں وہ زرہ لے کر چلا گیا، اور اسی موقع پر نبی کریم ﷺ کی تسلی و دلجوئی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ﴾ [سورة طه: 131]۔
اس روایت کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے کی ہے، یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے زہد، فقر اور آپ کی عظیم امانت و دیانت پر دلالت کرتی ہے۔
اس روایت کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے کی ہے، یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے زہد، فقر اور آپ کی عظیم امانت و دیانت پر دلالت کرتی ہے۔