المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ طه باب: سورہ ﴿طہٰ﴾۔
حدیث نمبر: 3662
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ - أَيِ الْعِجْلُ - إِذَا خَارَ سَجَدُوا ، وَإِذَا سَكَتَ رَفَعُوا رُؤُوسَهُمْ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے (بچھڑے کے متعلق) روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب بھی وہ بچھڑا اپنی مخصوص آواز نکالتا تو وہ لوگ (بنی اسرائیل) سجدہ ریز ہو جاتے، اور جب وہ خاموش ہو جاتا تو وہ اپنے سر (سجدے سے) اٹھا لیتے۔“
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں فرقد بن یعقوب السَّبَخی راوی ضعیف ہے، نیز یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف روایت) ہے جو بظاہر سابقہ کتب کے واقعات (اسرائیلیات) سے ماخوذ ہے۔