المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ طه باب: سورہ ﴿طہٰ﴾۔
وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا جُوَيْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : خُوَارٌ - قَالَ : خَارَ خَوْرَةً : لَمْ يُثَنِّ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : أَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلا ، وَقَالَ جَلَّ وَعَلَا : أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لا يُكَلِّمُهُمْ وَلا يَهْدِيهِمْ سَبِيلا .ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿خُوَارٌ﴾ [سورة الأعراف: 148] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”«خَارَ خَوْرَةً» اس (بچھڑے) نے محض ایک مرتبہ بیل کی طرح آواز نکالی تھی اور «لَمْ يُثَنِّ» اس نے اس آواز کو دوبارہ نہیں دہرایا تھا، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ عزوجل نے اس کی بے بسی بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا﴾ [سورة طه: 89] ”کیا وہ دیکھتے نہیں کہ وہ (بچھڑا) ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا“، اور اللہ جل وعلا نے مزید فرمایا ہے: ﴿أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا﴾ [سورة الأعراف: 148] ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ نہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی راستے کی رہنمائی کرتا ہے“۔
اس روایت کی سند میں موجود راوی جویبر بن سعید متروک اور سخت ضعیف ہے، نیز ضحاک کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع بھی ثابت نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ اثر سنداً ضعیف ہے۔