المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ طه باب: سورہ ﴿طہٰ﴾۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ قُسَيْطٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : نَزَلَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيْفٌ ، فَبَعَثَنِي إِلَى يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ : قُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ : بِعْنَا أَوْ أَسْلِفْنَا إِلَى رَجَبٍ فَقُلْتُ لَهُ .
فَقَالَ : وَاللهِ لَا أَبِيعُهُ وَلَا أُسْلِفُهُ إِلَّا بِرَهْنٍ . فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَاللهِ إِنَّهُ لَوْ بَاعَنِي أَوْ أَسْلَفَنِي لَقَضَيْتُهُ ، إِنِّي أَمِينٌ فِي السَّمَاءِ ، أَمِينٌ فِي الْأَرْضِ ، اذْهَبْ بِدِرْعِي الْحَدِيدِ . فَذَهَبْتُ بِهَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تَعْزِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ .سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ہاں ایک مہمان تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھے ایک یہودی کے پاس بھیجا اور فرمایا: ”اس سے کہو کہ اللہ کے رسول ﷺ تم سے فرما رہے ہیں کہ ہمیں (غلہ) فروخت کر دو یا رجب کے مہینے تک کے لیے ادھار دے دو۔“ میں نے اسے جا کر یہ پیغام پہنچایا، تو اس نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! میں انہیں نہ تو کوئی چیز فروخت کروں گا اور نہ ہی ادھار دوں گا مگر یہ کہ وہ میرے پاس کوئی چیز بطورِ رہن (ضمانت) رکھیں۔“ میں نے واپس آکر نبی کریم ﷺ کو اس صورتحال سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے فروخت کر دیتا یا ادھار دے دیتا تو میں اسے (وقت پر) ضرور ادا کر دیتا، یقیناً میں آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں؛ میری لوہے کی زرہ لے کر اس یہودی کے پاس چلے جاؤ۔“ چنانچہ میں وہ زرہ لے کر چلا گیا، اور اسی موقع پر نبی کریم ﷺ کی تسلی و دلجوئی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ﴾ [سورة طه: 131]۔
اس روایت کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے کی ہے، یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے زہد، فقر اور آپ کی عظیم امانت و دیانت پر دلالت کرتی ہے۔