کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: خوارج اور مارقین کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يَزِيدَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا نَافِعُ أَدْنِنِي مِنْ سَبِيلِ الْحَاجِّ ، قَالَ : وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضَعُفَ بَصَرُهُ ، فَفَعَلَ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِ الْمَحَامِلِ فَقَالَ : رَحِمَكُمُ اللهُ مَا أَنْعَمَكُمْ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَصْحَابِ الْجَوَالِيقِ السُّودِ عَلَيْهَا الرِّجَالُ ، فَقَالَ : ( أَنْتُمُ الْحُجَّاجُ ) لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ، فَاسْمَعُوا مِنِّي حَدِيثًا أُحَدِّثُكُمُوهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْلُ قِبْلَتِنَا مُؤْمِنُونَ لَا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا الْبَابُ الَّذِي دَخَلُوا فِيهِ مِنْهُ .
ترجمہ
ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے نافع! مجھے حاجیوں کے راستے کے قریب لے چلو۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کی بینائی کمزور ہو چکی تھی۔ نافع نے ایسا کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہودجوں پر سوار لوگوں کو دیکھا تو فرمایا: ”اللہ تم پر رحم فرمائے، تم کس قدر آسودہ ہو!“ پھر انہوں نے سیاہ پالانوں پر سوار لوگوں کو دیکھا اور فرمایا: ”تم ہی اصل حاجی ہو۔ شاید اس سال کے بعد میں تم سے نہ مل سکوں، لہٰذا مجھ سے ایک حدیث سن لو جو میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتا ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے قبلے کی طرف رخ کرنے والے مومن ہیں؛ انہیں ایمان سے صرف وہی دروازہ نکال سکتا ہے جس دروازے سے وہ اس میں داخل ہوئے تھے۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَامَ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ وَيُكَذِّبُونَ بِالدَّجَّالِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَيُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِالشَّفَاعَةِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتُحِشُوا .
2992 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ نَحْوَهُ وَزَادَ . وَيُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِالْحَوْضِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ وَلَا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا عَذَابَ الْقَبْرِ .
2992 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ مِثْلَ الْأَوَّلِ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَعَذَابَ الْقَبْرِ .
( 117 ) وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَرَّ فِي افْتِرَاقِ الْأُمَمِ .
2992 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ نَحْوَهُ وَزَادَ . وَيُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِالْحَوْضِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ وَلَا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا عَذَابَ الْقَبْرِ .
2992 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ مِثْلَ الْأَوَّلِ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَعَذَابَ الْقَبْرِ .
( 117 ) وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَرَّ فِي افْتِرَاقِ الْأُمَمِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے (منبر پر) کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً عنقریب اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو رجم (سنگساری) کی سزا کو جھٹلائیں گے، دجال (کے ظہور) کی تکذیب کریں گے، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا انکار کریں گے، عذابِ قبر کو جھٹلائیں گے، شفاعت (کی حقیقت) کی تکذیب کریں گے اور ان لوگوں کے (جہنم سے) نکالے جانے کو بھی جھٹلائیں گے جنہیں (آگ میں) جھلس کر کوئلہ ہو جانے کے بعد دوزخ سے نکالا جائے گا۔“
امام ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”وہ تقدیر کو جھٹلائیں گے اور حوضِ کوثر کا انکار کریں گے“، تاہم اس میں دجال، سورج کے طلوع ہونے اور عذابِ قبر کا تذکرہ نہیں ہے۔
امام ابویعلیٰ کی روایت پہلی روایت کے ہم معنی ہے، سوائے سورج کے طلوع ہونے اور عذابِ قبر کے بیان کے۔
اس موضوع پر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ”امتوں کے فرقوں میں بٹنے“ کے باب میں پہلے گزر چکی ہے۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”وہ تقدیر کو جھٹلائیں گے اور حوضِ کوثر کا انکار کریں گے“، تاہم اس میں دجال، سورج کے طلوع ہونے اور عذابِ قبر کا تذکرہ نہیں ہے۔
امام ابویعلیٰ کی روایت پہلی روایت کے ہم معنی ہے، سوائے سورج کے طلوع ہونے اور عذابِ قبر کے بیان کے۔
اس موضوع پر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ”امتوں کے فرقوں میں بٹنے“ کے باب میں پہلے گزر چکی ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فِيهِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي قَدْ خَطَّ عَلَى نَفْسِهِ خِطَّةً ، فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَمْ يَقْتُلْهُ لَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَذَهَبَ فَرَآهُ فِي خُطَّتِهِ قَائِمًا يُصَلِّي فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ وَلَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ قَالَ : فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ قَدْ ذَهَبَ .
2993 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِهَذَا .
2993 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو لوگوں نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی (بظاہر زہد و تقویٰ کی بنا پر) خوب تعریف و توصیف کی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون ہے جو اسے قتل کرے گا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں“، چنانچہ وہ روانہ ہوئے تو اسے اس حال میں پایا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس نے اپنے گرد (عبادت کے لیے) ایک لکیر کھینچ رکھی ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اس (عبادت گزار) حالت میں دیکھ کر (تردد کی بنا پر) واپس آگئے اور اسے قتل نہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ دریافت فرمایا: ”کون ہے جو اسے قتل کرے گا؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں“، وہ گئے تو اسے اپنی اسی لکیر کے اندر نماز پڑھتے پایا، پس وہ بھی اسے قتل کیے بغیر لوٹ آئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے (تیسری بار) دریافت فرمایا: ”کون ہے جو اسے قتل کرے گا؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (ہی اس کے قتل کے لیے موزوں ہو) لیکن میرا نہیں خیال کہ تم اسے پا سکو گے“، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ شخص وہاں سے جا چکا تھا۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے ابو خیثمہ کے واسطے سے یزید بن ہارون سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے ابو خیثمہ کے واسطے سے یزید بن ہارون سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ذُكِرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ نِكَايَةٌ فِي الْعَدُوِّ وَاجْتِهَادٌ ، فَقَالَ : لَا أَعْرِفُ هَذَا قَالُوا : بَلَى ، نَعْتُهُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : لَا أَعْرِفُهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ ، فَقَالُوا : هُوَ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ : قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كُنْتُ أَعْرِفُ هَذَا ، ( هُوَ أَوَّلُ ) قَرْنٍ رَأَيْتُهُ فِي أُمَّتِي إِنَّ فِيهِ لَسَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ سَلَّمَ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ : أَنْشُدُكَ بِاللهِ هَلْ حَدَّثْتَ نَفْسَكَ حِينَ طَلَعْتَ عَلَيْنَا أَنْ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ : قُمْ فَاقْتُلْهُ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ، رَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، وَرَأَيْتُ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَسْتَ بِصَاحِبِهِ ، اذْهَبْ يَا عُمَرُ فَاقْتُلْهُ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَانْتَظَرَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، فَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِ اسْتَأْمَرَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ، رَأَيْتُهُ سَاجِدًا ، وَرَأَيْتُ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَسْتَ بِصَاحِبِهِ قُمْ يَا عَلِيُّ أَنْتَ صَاحِبُهُ إِنْ وَجَدْتَهُ ، فَوَصَلَ فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى الدَّجَّالِ .
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَأَبُو مَعْشَرٍ فِيهِ ضَعْفٌ .
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَأَبُو مَعْشَرٍ فِيهِ ضَعْفٌ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص کا تذکرہ کیا گیا جو دشمن پر کاری ضرب لگانے والا اور نہایت عبادت گزار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو نہیں پہچانتا۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں (اے اللہ کے رسول!) اس کے اوصاف اور حلیہ تو ایسا اور ایسا ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”میں اسے نہیں جانتا۔“ اسی اثنا میں وہ شخص نمودار ہوا تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ وہی شخص ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اسے نہیں پہچانتا تھا، یہ میری امت میں پہلا (فتنہ پرور) گروہ ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں، اس کے چہرے پر شیطان کی نحوست کا اثر موجود ہے۔“ پھر جب وہ شخص قریب آیا تو اس نے سلام کیا، صحابہ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا جب تو ہمارے پاس آیا تو تیرے دل میں یہ بات نہیں تھی کہ اس پوری جماعت میں کوئی بھی شخص تجھ سے بہتر نہیں ہے؟“ اس نے جواب دیا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اے اللہ! جی ہاں۔“ پھر وہ شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اٹھو اور اسے قتل کر دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو اسے قیام کی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ یقیناً نماز کی ایک حرمت اور حق ہے، (بہتر ہے کہ) میں اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دوبارہ حکم لے لوں، چنانچہ وہ واپس آگئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، میں نے اسے قیام کی حالت میں نماز پڑھتے دیکھا اور میں نے محسوس کیا کہ نماز کی ایک حرمت اور حق ہے، اگر اب آپ کا یہی حکم ہے تو میں اسے قتل کر دوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے قتل کرنے والے نہیں ہو۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! تم جاؤ اور اسے قتل کر دو۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو وہ سجدے کی حالت میں تھا، انہوں نے کافی دیر انتظار کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے جی میں سوچا کہ یقیناً سجدے کا ایک حق ہے، کاش کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دوبارہ مشورہ کر لیتا، کیونکہ مجھ سے بہتر شخصیت (ابوبکر) نے بھی ایسا ہی کیا تھا، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، میں نے اسے سجدے کی حالت میں پایا اور میں نے محسوس کیا کہ سجدے کا ایک عظیم حق ہے، اگر آپ اب بھی چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں تو میں کر دوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی اسے قتل کرنے والے نہیں ہو، اے علی! تم اٹھو، اگر تم اسے پاؤ تو تم ہی اسے قتل کرنے والے ہو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ مسجد سے نکل چکا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اسے آج قتل کر دیا جاتا تو میری امت کے دو آدمیوں میں بھی دجال کے نکلنے تک کبھی اختلاف و تفرقہ پیدا نہ ہوتا۔“
یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں موجود راوی ابو معشر ضعیف ہیں۔
یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں موجود راوی ابو معشر ضعیف ہیں۔
وَلَهُ طَرِيقٌ أُخْرَى أَخْرَجَهَا الْبَزَّارُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَرِيكٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ رَجُلٌ حَسَنُ السَّمْتِ ، ذَكَرُوا مِنْ أَمْرِهِ أَمْرًا حَسَنًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أَرَى عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةً مِنَ النَّارِ فَلَمَّا انْتَهَى فَسَلَّمَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِاللهِ - أَظُنُّهُ قَالَ - : هَلْ قُلْتَ فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَفْضَلُ الْقَوْمِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمَّا ذَهَبَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ قَدْ طَلَعَ قَرْنُ هَذَا وَأَصْحَابُهُ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَفَلَا أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ بِاخْتِصَارٍ .
وَآخِرُهُ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَجِدْهُ وَذَكَرَ مَا بَعْدَهُ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ ، قُلْتُ : قَدْ خُولِفَ فِيهِ كَمَا تَقَدَّمَ ، فَقِيلَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ شَرِيكٍ كَمَا تَرَى بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ .
وَآخِرُهُ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَجِدْهُ وَذَكَرَ مَا بَعْدَهُ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ ، قُلْتُ : قَدْ خُولِفَ فِيهِ كَمَا تَقَدَّمَ ، فَقِيلَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ شَرِيكٍ كَمَا تَرَى بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک شخص سامنے آیا جو بظاہر بہت ہی نیک وضع قطع اور اچھے طور طریقوں والا معلوم ہوتا تھا، لوگوں نے اس کے متعلق اچھے کلمات کہے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ میں اس کے چہرے پر جہنم کی سیاہی کا اثر دیکھ رہا ہوں“، پھر جب وہ شخص قریب پہنچا اور سلام کیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا (راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا): ”کیا تم نے اپنے دل میں یہ سوچا ہے کہ تم اس پوری جماعت میں سب سے بہتر اور افضل ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں“، پھر جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس (فتنے) کا سینگ نمودار ہو چکا ہے اور اس کے ساتھی بھی اسی کے گروہ سے ہوں گے“، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (ضرور)“، پھر راوی نے سابقہ روایت کی مانند اختصار کے ساتھ بقیہ قصہ بیان کیا۔
اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (اسے قتل کرنے کے لیے) روانہ ہوئے مگر اسے پا نہ سکے اور پھر اس کے بعد کا تذکرہ کیا۔ امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے مروی ہے اور شریک نامی راوی اسے بیان کرنے میں اکیلے ہیں، میں (مصنف) کہتا ہوں کہ اس روایت میں شریک کی مخالفت بھی کی گئی ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، چنانچہ اسے ابو سفیان کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے، حالانکہ شریک کی روایت کے علاوہ بھی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اور اس موضوع پر سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت امام احمد اور دیگر محدثین کے ہاں بھی موجود ہے۔
اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (اسے قتل کرنے کے لیے) روانہ ہوئے مگر اسے پا نہ سکے اور پھر اس کے بعد کا تذکرہ کیا۔ امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے مروی ہے اور شریک نامی راوی اسے بیان کرنے میں اکیلے ہیں، میں (مصنف) کہتا ہوں کہ اس روایت میں شریک کی مخالفت بھی کی گئی ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، چنانچہ اسے ابو سفیان کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے، حالانکہ شریک کی روایت کے علاوہ بھی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اور اس موضوع پر سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت امام احمد اور دیگر محدثین کے ہاں بھی موجود ہے۔