المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ مقعد الخوارج والمارقين باب: خوارج اور مارقین کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ذُكِرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ نِكَايَةٌ فِي الْعَدُوِّ وَاجْتِهَادٌ ، فَقَالَ : لَا أَعْرِفُ هَذَا قَالُوا : بَلَى ، نَعْتُهُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : لَا أَعْرِفُهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ ، فَقَالُوا : هُوَ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ : قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كُنْتُ أَعْرِفُ هَذَا ، ( هُوَ أَوَّلُ ) قَرْنٍ رَأَيْتُهُ فِي أُمَّتِي إِنَّ فِيهِ لَسَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ سَلَّمَ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ : أَنْشُدُكَ بِاللهِ هَلْ حَدَّثْتَ نَفْسَكَ حِينَ طَلَعْتَ عَلَيْنَا أَنْ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ : قُمْ فَاقْتُلْهُ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ، رَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، وَرَأَيْتُ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَسْتَ بِصَاحِبِهِ ، اذْهَبْ يَا عُمَرُ فَاقْتُلْهُ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَانْتَظَرَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، فَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِ اسْتَأْمَرَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ، رَأَيْتُهُ سَاجِدًا ، وَرَأَيْتُ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَسْتَ بِصَاحِبِهِ قُمْ يَا عَلِيُّ أَنْتَ صَاحِبُهُ إِنْ وَجَدْتَهُ ، فَوَصَلَ فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى الدَّجَّالِ .
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَأَبُو مَعْشَرٍ فِيهِ ضَعْفٌ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص کا تذکرہ کیا گیا جو دشمن پر کاری ضرب لگانے والا اور نہایت عبادت گزار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو نہیں پہچانتا۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں (اے اللہ کے رسول!) اس کے اوصاف اور حلیہ تو ایسا اور ایسا ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”میں اسے نہیں جانتا۔“ اسی اثنا میں وہ شخص نمودار ہوا تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ وہی شخص ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اسے نہیں پہچانتا تھا، یہ میری امت میں پہلا (فتنہ پرور) گروہ ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں، اس کے چہرے پر شیطان کی نحوست کا اثر موجود ہے۔“ پھر جب وہ شخص قریب آیا تو اس نے سلام کیا، صحابہ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا جب تو ہمارے پاس آیا تو تیرے دل میں یہ بات نہیں تھی کہ اس پوری جماعت میں کوئی بھی شخص تجھ سے بہتر نہیں ہے؟“ اس نے جواب دیا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اے اللہ! جی ہاں۔“ پھر وہ شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اٹھو اور اسے قتل کر دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو اسے قیام کی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ یقیناً نماز کی ایک حرمت اور حق ہے، (بہتر ہے کہ) میں اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دوبارہ حکم لے لوں، چنانچہ وہ واپس آگئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، میں نے اسے قیام کی حالت میں نماز پڑھتے دیکھا اور میں نے محسوس کیا کہ نماز کی ایک حرمت اور حق ہے، اگر اب آپ کا یہی حکم ہے تو میں اسے قتل کر دوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے قتل کرنے والے نہیں ہو۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! تم جاؤ اور اسے قتل کر دو۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو وہ سجدے کی حالت میں تھا، انہوں نے کافی دیر انتظار کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے جی میں سوچا کہ یقیناً سجدے کا ایک حق ہے، کاش کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دوبارہ مشورہ کر لیتا، کیونکہ مجھ سے بہتر شخصیت (ابوبکر) نے بھی ایسا ہی کیا تھا، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، میں نے اسے سجدے کی حالت میں پایا اور میں نے محسوس کیا کہ سجدے کا ایک عظیم حق ہے، اگر آپ اب بھی چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں تو میں کر دوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی اسے قتل کرنے والے نہیں ہو، اے علی! تم اٹھو، اگر تم اسے پاؤ تو تم ہی اسے قتل کرنے والے ہو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ مسجد سے نکل چکا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اسے آج قتل کر دیا جاتا تو میری امت کے دو آدمیوں میں بھی دجال کے نکلنے تک کبھی اختلاف و تفرقہ پیدا نہ ہوتا۔“
یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں موجود راوی ابو معشر ضعیف ہیں۔
وَلَهُ طَرِيقٌ أُخْرَى أَخْرَجَهَا الْبَزَّارُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَرِيكٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ رَجُلٌ حَسَنُ السَّمْتِ ، ذَكَرُوا مِنْ أَمْرِهِ أَمْرًا حَسَنًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أَرَى عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةً مِنَ النَّارِ فَلَمَّا انْتَهَى فَسَلَّمَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِاللهِ - أَظُنُّهُ قَالَ - : هَلْ قُلْتَ فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَفْضَلُ الْقَوْمِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمَّا ذَهَبَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ قَدْ طَلَعَ قَرْنُ هَذَا وَأَصْحَابُهُ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَفَلَا أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ بِاخْتِصَارٍ .
وَآخِرُهُ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَجِدْهُ وَذَكَرَ مَا بَعْدَهُ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ ، قُلْتُ : قَدْ خُولِفَ فِيهِ كَمَا تَقَدَّمَ ، فَقِيلَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ شَرِيكٍ كَمَا تَرَى بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک شخص سامنے آیا جو بظاہر بہت ہی نیک وضع قطع اور اچھے طور طریقوں والا معلوم ہوتا تھا، لوگوں نے اس کے متعلق اچھے کلمات کہے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ میں اس کے چہرے پر جہنم کی سیاہی کا اثر دیکھ رہا ہوں“، پھر جب وہ شخص قریب پہنچا اور سلام کیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا (راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا): ”کیا تم نے اپنے دل میں یہ سوچا ہے کہ تم اس پوری جماعت میں سب سے بہتر اور افضل ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں“، پھر جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس (فتنے) کا سینگ نمودار ہو چکا ہے اور اس کے ساتھی بھی اسی کے گروہ سے ہوں گے“، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (ضرور)“، پھر راوی نے سابقہ روایت کی مانند اختصار کے ساتھ بقیہ قصہ بیان کیا۔
اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (اسے قتل کرنے کے لیے) روانہ ہوئے مگر اسے پا نہ سکے اور پھر اس کے بعد کا تذکرہ کیا۔ امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے مروی ہے اور شریک نامی راوی اسے بیان کرنے میں اکیلے ہیں، میں (مصنف) کہتا ہوں کہ اس روایت میں شریک کی مخالفت بھی کی گئی ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، چنانچہ اسے ابو سفیان کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے، حالانکہ شریک کی روایت کے علاوہ بھی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اور اس موضوع پر سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت امام احمد اور دیگر محدثین کے ہاں بھی موجود ہے۔