المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ مقعد الخوارج والمارقين باب: خوارج اور مارقین کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فِيهِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي قَدْ خَطَّ عَلَى نَفْسِهِ خِطَّةً ، فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَمْ يَقْتُلْهُ لَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَذَهَبَ فَرَآهُ فِي خُطَّتِهِ قَائِمًا يُصَلِّي فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ يَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ وَلَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ قَالَ : فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ قَدْ ذَهَبَ .
2993 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِهَذَا .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو لوگوں نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی (بظاہر زہد و تقویٰ کی بنا پر) خوب تعریف و توصیف کی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون ہے جو اسے قتل کرے گا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں“، چنانچہ وہ روانہ ہوئے تو اسے اس حال میں پایا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس نے اپنے گرد (عبادت کے لیے) ایک لکیر کھینچ رکھی ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اس (عبادت گزار) حالت میں دیکھ کر (تردد کی بنا پر) واپس آگئے اور اسے قتل نہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ دریافت فرمایا: ”کون ہے جو اسے قتل کرے گا؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں“، وہ گئے تو اسے اپنی اسی لکیر کے اندر نماز پڑھتے پایا، پس وہ بھی اسے قتل کیے بغیر لوٹ آئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے (تیسری بار) دریافت فرمایا: ”کون ہے جو اسے قتل کرے گا؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (ہی اس کے قتل کے لیے موزوں ہو) لیکن میرا نہیں خیال کہ تم اسے پا سکو گے“، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ شخص وہاں سے جا چکا تھا۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے ابو خیثمہ کے واسطے سے یزید بن ہارون سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔