قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ الثَّعْلَبِيُّ ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ ، يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ ، وَيَلْفِظُونَهُ ، قَاتِلُوهُمْ ، فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ .
2995 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، بِهَذَا .
2995 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جنہیں ’رافضہ‘ کہا جائے گا، وہ اسلام کو رد کر دیں گے اور اسے (اپنے دین و ایمان سے) نکال پھینکیں گے، پس تم ان سے قتال کرنا کیونکہ وہ مشرک ہوں گے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی زہیر کے واسطے سے ہاشم سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی زہیر کے واسطے سے ہاشم سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ عَلِيٍّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ ، قَالَتْ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : هَذَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ قَوْمًا يَعْلَمُونَ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ يَرْفُضُونَهُ ، لَهُمْ نَبَزٌ ، يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ ، مَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَعْلَمْ بِأَنَّهُمْ مُشْرِكُونَ .
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت محمد ﷺ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”یہ جنت میں ہے، اور یقیناً اس کے گروہ سے تعلق کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایسی قوم ہوگی جو اسلام کو تو پہچانیں گے پھر اسے ترک کر دیں گے، ان کا ایک خاص لقب ہوگا، انہیں رافضہ کہا جائے گا، پس جو شخص ان سے ملے تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ مشرک ہیں۔“
اس روایت کی سند میں ابو الجحاف داؤد بن ابی عوف ہیں اور یہ روایت سنداً اور متناً ضعیف و منکر قرار دی گئی ہے۔
اس روایت کی سند میں ابو الجحاف داؤد بن ابی عوف ہیں اور یہ روایت سنداً اور متناً ضعیف و منکر قرار دی گئی ہے۔