المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ مقعد الخوارج والمارقين باب: خوارج اور مارقین کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَامَ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ وَيُكَذِّبُونَ بِالدَّجَّالِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَيُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِالشَّفَاعَةِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتُحِشُوا .
2992 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ نَحْوَهُ وَزَادَ . وَيُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِالْحَوْضِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ وَلَا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا عَذَابَ الْقَبْرِ .
2992 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ مِثْلَ الْأَوَّلِ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَعَذَابَ الْقَبْرِ .
( 117 ) وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَرَّ فِي افْتِرَاقِ الْأُمَمِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے (منبر پر) کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً عنقریب اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو رجم (سنگساری) کی سزا کو جھٹلائیں گے، دجال (کے ظہور) کی تکذیب کریں گے، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا انکار کریں گے، عذابِ قبر کو جھٹلائیں گے، شفاعت (کی حقیقت) کی تکذیب کریں گے اور ان لوگوں کے (جہنم سے) نکالے جانے کو بھی جھٹلائیں گے جنہیں (آگ میں) جھلس کر کوئلہ ہو جانے کے بعد دوزخ سے نکالا جائے گا۔“
امام ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”وہ تقدیر کو جھٹلائیں گے اور حوضِ کوثر کا انکار کریں گے“، تاہم اس میں دجال، سورج کے طلوع ہونے اور عذابِ قبر کا تذکرہ نہیں ہے۔
امام ابویعلیٰ کی روایت پہلی روایت کے ہم معنی ہے، سوائے سورج کے طلوع ہونے اور عذابِ قبر کے بیان کے۔
اس موضوع پر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ”امتوں کے فرقوں میں بٹنے“ کے باب میں پہلے گزر چکی ہے۔