المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ مقعد الخوارج والمارقين باب: خوارج اور مارقین کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يَزِيدَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا نَافِعُ أَدْنِنِي مِنْ سَبِيلِ الْحَاجِّ ، قَالَ : وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضَعُفَ بَصَرُهُ ، فَفَعَلَ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِ الْمَحَامِلِ فَقَالَ : رَحِمَكُمُ اللهُ مَا أَنْعَمَكُمْ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَصْحَابِ الْجَوَالِيقِ السُّودِ عَلَيْهَا الرِّجَالُ ، فَقَالَ : ( أَنْتُمُ الْحُجَّاجُ ) لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ، فَاسْمَعُوا مِنِّي حَدِيثًا أُحَدِّثُكُمُوهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْلُ قِبْلَتِنَا مُؤْمِنُونَ لَا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا الْبَابُ الَّذِي دَخَلُوا فِيهِ مِنْهُ .ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے نافع! مجھے حاجیوں کے راستے کے قریب لے چلو۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کی بینائی کمزور ہو چکی تھی۔ نافع نے ایسا کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہودجوں پر سوار لوگوں کو دیکھا تو فرمایا: ”اللہ تم پر رحم فرمائے، تم کس قدر آسودہ ہو!“ پھر انہوں نے سیاہ پالانوں پر سوار لوگوں کو دیکھا اور فرمایا: ”تم ہی اصل حاجی ہو۔ شاید اس سال کے بعد میں تم سے نہ مل سکوں، لہٰذا مجھ سے ایک حدیث سن لو جو میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتا ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے قبلے کی طرف رخ کرنے والے مومن ہیں؛ انہیں ایمان سے صرف وہی دروازہ نکال سکتا ہے جس دروازے سے وہ اس میں داخل ہوئے تھے۔“