کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: «لا إله إلا الله» کی گواہی دینے والے کے خون کی حرمت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ أُقَاتِلُهُمْ ، وَأَدْعُوهُمْ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ ، وَأَمْوَالُهُمْ .
ترجمہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف اس مقصد کے لیے روانہ فرمایا کہ میں ان کے خلاف جہاد کروں اور انہیں اللہ کی توحید کی دعوت دوں، اور آپ ﷺ نے یہ اصول بیان فرمایا: ”پس جب وہ لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں) کہہ دیں، تو ان کے خون اور ان کے اموال مجھ پر حرام ہو جائیں گے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں کی ہے، جس کی سند میں فضل بن دکین، ابان بن عبداللہ البجلی اور ابراہیم بن جریر شامل ہیں جنہوں نے اسے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں کی ہے، جس کی سند میں فضل بن دکین، ابان بن عبداللہ البجلی اور ابراہیم بن جریر شامل ہیں جنہوں نے اسے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ، حُرِّمَ عَلَيَّ دَمُهُ ، إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : التَّارِكِ دِينَهُ ، وَالثَّيِّبِ الزَّانِي ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسًا ظُلْمًا .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، تو اس کا خون (بہانا) مجھ پر حرام قرار دیا گیا ہے، سوائے تین طرح کے افراد کے: اپنے دین کو چھوڑنے والا (مرتد)، وہ شادی شدہ جو زنا کا ارتکاب کرے، اور وہ شخص جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا ہو۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے سوءِ حفظ (حافظے کی کمزوری) کی بنا پر ضعیف ہیں، تاہم اس روایت کا متن دیگر صحیح اسناد کے ساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے سوءِ حفظ (حافظے کی کمزوری) کی بنا پر ضعیف ہیں، تاہم اس روایت کا متن دیگر صحیح اسناد کے ساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔
وَبِهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارًا مُنَافِقًا ، يَصْنَعُ كَذَا ، وَكَذَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : عَنْ قَتْلِ أُولَئِكَ نُهِيتُ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرا ایک منافق پڑوسی ہے جو اس اس طرح کے (نازیبا) کام کرتا ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے ایسے کلمہ گو لوگوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“
تخریج: اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (1782) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
تخریج: اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (1782) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، وَفِيهِ : أَلَا وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ ﷺ نے یہ بھی ذکر فرمایا: ”خبردار! بے شک میرے رب عزوجل نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“ کا اقرار نہ کر لیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کلمہ کے کسی (شرعی) حق کے، اور ان کا حقیقی حساب اللہ عزوجل کے سپرد ہے۔“
[أخرجه الحارث في مسنده: 2857، وهو قطعة من حديث طويل، وأصل هذا المتن ثابت في الصحيحين من حديث أبي هريرة وغيره].
[أخرجه الحارث في مسنده: 2857، وهو قطعة من حديث طويل، وأصل هذا المتن ثابت في الصحيحين من حديث أبي هريرة وغيره].