المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ بَابُ تَحْرِيمِ دَمِ مِنْ شهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: «لا إله إلا الله» کی گواہی دینے والے کے خون کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ، حُرِّمَ عَلَيَّ دَمُهُ ، إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : التَّارِكِ دِينَهُ ، وَالثَّيِّبِ الزَّانِي ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسًا ظُلْمًا .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، تو اس کا خون (بہانا) مجھ پر حرام قرار دیا گیا ہے، سوائے تین طرح کے افراد کے: اپنے دین کو چھوڑنے والا (مرتد)، وہ شادی شدہ جو زنا کا ارتکاب کرے، اور وہ شخص جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا ہو۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے سوءِ حفظ (حافظے کی کمزوری) کی بنا پر ضعیف ہیں، تاہم اس روایت کا متن دیگر صحیح اسناد کے ساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔