المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ بَابُ تَحْرِيمِ دَمِ مِنْ شهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: «لا إله إلا الله» کی گواہی دینے والے کے خون کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2854
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ أُقَاتِلُهُمْ ، وَأَدْعُوهُمْ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ ، وَأَمْوَالُهُمْ .ترجمہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف اس مقصد کے لیے روانہ فرمایا کہ میں ان کے خلاف جہاد کروں اور انہیں اللہ کی توحید کی دعوت دوں، اور آپ ﷺ نے یہ اصول بیان فرمایا: ”پس جب وہ لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں) کہہ دیں، تو ان کے خون اور ان کے اموال مجھ پر حرام ہو جائیں گے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں کی ہے، جس کی سند میں فضل بن دکین، ابان بن عبداللہ البجلی اور ابراہیم بن جریر شامل ہیں جنہوں نے اسے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔