المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ بَابُ تَحْرِيمِ دَمِ مِنْ شهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: «لا إله إلا الله» کی گواہی دینے والے کے خون کی حرمت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، وَفِيهِ : أَلَا وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ ﷺ نے یہ بھی ذکر فرمایا: ”خبردار! بے شک میرے رب عزوجل نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“ کا اقرار نہ کر لیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کلمہ کے کسی (شرعی) حق کے، اور ان کا حقیقی حساب اللہ عزوجل کے سپرد ہے۔“
[أخرجه الحارث في مسنده: 2857، وهو قطعة من حديث طويل، وأصل هذا المتن ثابت في الصحيحين من حديث أبي هريرة وغيره].